
(24 نیوز )پاک فوج نے ایک مرتبہ بھارتی عزائم بے نقاب کر دیئے ، آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق بھارت ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود معرکۂ حق کی تلخ حقیقت کا سامنا کرنے سے انکاری ہے، ناکام مہم میں شکست تسلیم کرنے کے بجائے بھارت نے تاریخ کو اپنی پسند کے رنگ میں رنگنے کا فیصلہ کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق تاریخ کو مسخ کرنے کے لیے بھارتی مواد تخلیق کاروں نے نام نہاد آپریشن سندور کی انتہائی ڈرامائی، رنگین اور حقائق کے منافی داستان تیار کی ہے، نام نہاد آپریشن سندور پر بنائی گئی دستاویزی فلم میں بھارت کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق باریک بینی اور سنجیدگی کے فقدان کے باعث اس دستاویزی فلم کو بیک وقت المیہ اور مزاحیہ قرار دیا جا سکتا ہے،منتخب انداز میں ایڈیٹ کیے گئے انٹرویوز، جذباتی بیانیہ اور سنیما کے بولی وڈ انداز میں تشکیل نو کے ذریعے ثابت شدہ حقائق اور آپریشنل نتائج کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
دستاویزی فلم میں موجود بیانیہ بنیادی تضادات سے بھرا ہوا ہے، جو واقعات کا مقامی سطح پر قابل قبول نیا ورژن گھڑنے کی تاخیر سے کی جانے والی کوشش کو بے نقاب کرتا ہے، دستاویزی فلم 16 اپریل 2025 کو پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف کے خطاب اور 22 اپریل 2025 کے پہلگام واقعے کے درمیان دانستہ تعلق قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دستاویزی فلم نے کچھ نہ ہونے کے باوجود ایک سازشی نظریہ گھڑنے کی کوشش کی ہے، بھارت نے بعد ازاں دعویٰ کیا کہ پہلگام کے تین مبینہ حملہ آوروں کی شناخت کرکے انہیں 28 جولائی 2025 کو ختم کر دیا گیا، یعنی نام نہاد آپریشن سندور کے 82 روز بعد۔اس کے باوجود دستاویزی فلم نام نہاد آپریشن سندور کو پہلگام کے ذمہ داروں کو سزا دینے کے طور پر پیش کرتی ہے اگر مبینہ حملہ آور 28 جولائی کو ختم کیے گئے تو بھارت کو بتانا ہوگا کہ 7 مئی 2025 کو اس کے دعوے کے مطابق کس کو سزا دی گئی؟’’100 فیصد مشن کامیابی‘‘ کا دعویٰ بھی آپریشنل ریکارڈ سے مکمل طور پر منقطع ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق معرکۂ حق کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کو کامیابی سے ناکام بنایا اور 8 بھارتی فوجی طیارے مار گرائے، پاکستان نے بعد ازاں آپریشن بنیان المرصوص کیا، آپریشن بنیان المرصوص میں فتح پریسیژن گائیڈڈ راکٹس اور میزائلز، پاک فضائیہ کے پریسیژن اسلحے، طویل فاصلے تک مار کرنے والے لوئٹرنگ میونیشنز اور پریسیژن آرٹلری استعمال کی گئی، آپریشن بنیان المرصوص کے دوران 26 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان اہداف میں پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہونے والی تنصیبات اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو ہوا دینے والے عناصر شامل تھے، دستاویزی فلم خود بھی بھارت کی واضح بالادستی کے دعوے کو مزید کمزور کرتی ہے،بھارتی عسکری قیادت پاکستانی میزائل، ڈرون اور فضائی سرگرمیوں، لائن آف کنٹرول پر مسلسل جھڑپوں اور بھارتی فضائی دفاعی نظام کے فعال ہونے کا اعتراف کرتی ہے، یہ اعترافات پاکستان کی فیصلہ کن شکست کی بار بار کی جانے والی تصویر کشی سے مطابقت نہیں رکھتے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دستاویزی فلم میں جنگ بندی کے خاتمے کا بیان بھی کم انکشاف کن نہیں، دستاویزی فلم کی اپنی ہی بیانیہ تصدیق کرتی ہے کہ دشمنی کا خاتمہ دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان رابطے اور فوجی کارروائی روکنے پر اتفاق کے ذریعے ہوا، یہ بات ہی آپریشن سندور کو یکطرفہ بھارتی فوجی فتح کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی نفی کرتی ہے، امریکہ کی سہولت کاری سے ہونے والی جنگ بندی کو بعد میں غیر مشروط فتح کے ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دستاویزی فلم کشیدگی بڑھنے کے معاملے پر بھی اپنے ہی دعووں کی نفی کرتی ہے، فلم میں بار بار اچانک حملے، درست نشانہ بازی، گہرائی تک حملوں اور کشیدگی میں بالادستی پر زور دیا گیا ہے،ساتھ ہی دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت نے جان بوجھ کر تنازع محدود رکھا اور پاکستان کو ’’خروج کی کھڑکی‘‘ فراہم کی، یہ متضاد دعوے اس پروڈکشن کو غیر جانب دار فوجی تجزیے کے بجائے احتیاط سے تیار کردہ داخلی بیانیہ ثابت کرتے ہیں،بھارت نے حقیقت کو ڈی کلاسیفائی نہیں کیا، بھارت نے ایک فوجی غلطی کو کامیاب مہم کے طور پر پیش کرنے کے لیے پروپیگنڈا ویڈیو تیار کی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سینما کی کوئی بھی تشکیل نو زمانی ترتیب کو تبدیل نہیں کر سکتی،کوئی فلم طیاروں کے نقصانات کو مٹا، فوجی ہلاکتوں کو چھپا یا حقیقت میں ہونے والی فوجی جھڑپوں کو تبدیل نہیں کر سکتی، کوئی بھی سنیما کی پیشکش میدان جنگ کی شکست کو خود ساختہ فتح میں تبدیل نہیں کر سکتی، پاکستان کو معرکۂ حق کے بارے میں کوئی بیانیہ گھڑنے کی ضرورت نہیں،آپریشنل ریکارڈ، میدان جنگ کے شواہد، سفارتی روابط اور بھارت کے بعد کے اپنے بیانات سب کچھ واضح کرتے ہیں۔
یہ حقائق عالمی برادری میں وسیع پیمانے پر تسلیم کیے جاتے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے پرعزم ہے، اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار اور صلاحیت رکھتی ہیں،مستقبل میں کسی بھی فوجی مہم جوئی کا جواب مضبوط، فیصلہ کن اور غیر متناسب ردعمل سے دیا جائے گا، اس کے بعد سنیما کی کوئی مقدار میں کی جانے والی ’’جھوٹی گواہی‘‘ بھی بھارت کو اپنی شکست کا کوئی قابل قبول جواز فراہم نہیں کر سکے گی۔
یہ بھی پڑھیں :پاکستان میں بھی سونا اور چاندی مہنگا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟






