2

برگر کھانے کیلئے گھنٹوں انتظار!  شہریوں کا سمندر امڈ آیا

( ویب ڈیسک )چین میں برگر کی مقبولیت میں تیزی سے اضافے نے عالمی اور مقامی فوڈ برانڈز کو اس مارکیٹ میں داخل ہونے پر مجبور کردیا، یہاں تک کہ کافی اور ہاٹ پاٹ کے کاروبار سے وابستہ کمپنیاں بھی برگر کے میدان میں اتر آئی ہیں۔

  رپورٹ کے مطابق چین میں صارفین کی جانب سے کم قیمت، آسانی سے کھائے جانے والے اور پیٹ بھرنے والے کھانوں کی طلب میں اضافے کے باعث برگر فاسٹ فوڈ مارکیٹ کے اہم ترین شعبوں میں شامل ہوگیا ہے۔

یَم چائنا کے پیزا ہٹ برگر بار نے صرف چھ ماہ میں 200 سے زائد آؤٹ لیٹس قائم کرلیے ہیں، جبکہ کمپنی کا منصوبہ ہے کہ 2026 کے اختتام تک ان کی تعداد 500 سے 600 تک پہنچائی جائے۔

ہاٹ پاٹ چین ہائی دی لاؤ نے بھی گزشتہ ماہ برگر مارکیٹ میں قدم رکھتے ہوئے ’’فریش برگر‘‘ کے نام سے نیا برانڈ متعارف کرایا، جہاں برگر کے ساتھ پیزا، پاستا اور فرائیڈ چکن بھی دستیاب ہے۔ دوسری جانب کافی چین ایم اسٹینڈ نے بھی بعض شہروں میں برگر پر توجہ مرکوز کرنے والے آؤٹ لیٹس کھولے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق چین کی مغربی فاسٹ فوڈ مارکیٹ 2025 میں 499.65 ارب یوآن یعنی تقریباً 74.1 ارب ڈالر کی تھی اور 2027 تک اس کے 587.09 ارب یوآن تک پہنچنے کی توقع ہے۔

برگر اس مارکیٹ میں صارفین کی اولین پسند بن چکا ہے۔ ایک سروے میں 55 فیصد صارفین نے برگر کو اپنی پسندیدہ اشیا میں شامل کیا۔

2025 میں چین کی برگر مارکیٹ کی مالیت تقریباً 18.4 ارب ڈالر رہی اور 2035 تک اس میں سالانہ 8.7 فیصد اضافے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث چینی صارفین اخراجات میں محتاط ہوگئے ہیں، اس لیے برگر مکمل ریسٹورنٹ کھانے کے مقابلے میں کم قیمت اور نسبتاً آسان متبادل بن گیا ہے۔

چین میں برگر کی بڑھتی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ امریکی برانڈ فائیو گائز نے رواں ماہ بیجنگ میں اپنے پہلے دو اسٹورز کھولے تو صارفین کو کھانے کے لیے دو گھنٹے سے زیادہ انتظار کرنا پڑا۔

دوسری جانب وینڈیز نے بھی چین میں داخل ہونے کا اعلان کیا ہے اور آئندہ ایک دہائی کے دوران 1,000 تک فرنچائز ریسٹورنٹس کھولنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

چین میں مقامی برانڈز بھی اس دوڑ میں شامل ہیں اور میکڈونلڈز، کے ایف سی اور شیک شیک سمیت بڑے عالمی ناموں کو سخت مقابلہ دے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق چین میں ایک فرد پر مشتمل گھرانوں، چھوٹے خاندانوں اور نوجوان شہری کارکنوں کی بڑھتی تعداد نے ایسے کھانوں کی مانگ میں اضافہ کیا ہے جو کم وقت اور کم خرچ میں دستیاب ہوں، اور برگر اس بدلتے ہوئے صارف رجحان سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والی غذاؤں میں شامل ہوگیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں