
(ویب ڈیسک )عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں منگل کو مسلسل تیسرے سیشن میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ امریکی شرحِ سود میں آئندہ ماہ اضافے کے خدشات کم ہونے کے باعث سرمایہ کاروں کی توجہ اب امریکی فیڈرل ریزرو کے اجلاس کی تفصیلات پر مرکوز ہے۔
اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 4,424.28 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ دسمبر ڈیلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز بھی 0.2 فیصد اضافے کے بعد 4,480.90 ڈالر فی اونس پر پہنچ گئے۔
امریکی ڈالر بھی بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں کئی ماہ کی کم ترین سطح کے قریب موجود ہے۔ ڈالر کی کمزوری عموماً دیگر کرنسیوں کے حامل سرمایہ کاروں کے لیے ڈالر میں قیمت رکھنے والی دھاتوں کو نسبتاً سستا بناتی ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ ہفتے سامنے آنے والے کمزور امریکی معاشی اعداد و شمار نے یہ توقعات بڑھا دی ہیں کہ فیڈرل ریزرو رواں سال شرحِ سود میں اضافہ کرنے کے بجائے موجودہ شرح برقرار رکھ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پٹرول نایاب!پمپس پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں
ایک حالیہ سروے میں زیادہ تر ماہرین اقتصادیات نے بھی توقع ظاہر کی ہے کہ امریکی مرکزی بینک اگلے ماہ اور سال کے اختتام تک اپنی اہم شرحِ سود میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔
جولائی میں توقعات کے برخلاف روزگار میں کمی، صارفین کی قیمتوں میں توقع سے کم اضافہ اور کمزور خوردہ فروخت کے اعداد و شمار کے بعد ستمبر میں شرحِ سود میں 0.25 فیصد اضافے کے بجائے اسے برقرار رکھنے کے امکانات تقریباً 65 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔
اب سرمایہ کاروں کی نظریں فیڈرل ریزرو کے گزشتہ پالیسی اجلاس کے منٹس پر ہیں، جو بدھ کو جاری کیے جائیں گے۔ ان منٹس سے مستقبل میں امریکی شرحِ سود کی سمت کے حوالے سے مزید اشارے ملنے کی توقع ہے۔






