
(اویس کیانی) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاسپورٹ آفس گارڈن ٹاؤن کا اچانک دورہ کیا جہاں پاسپورٹ بنوانے کے لیے آئے شہریوں کی لمبی قطاریں، کئی کئی گھنٹے انتظار اور ایجنٹ مافیا کی مبینہ سرگرمیوں پر شدید برہمی کا اظہار کیا، وزیر داخلہ نے شہریوں سے ملاقات کرکے ان کی شکایات سنیں اور موقع پر ہی متعلقہ حکام کو فوری اقدامات کی ہدایت کی۔
پاسپورٹ آفس میں متعدد کاؤنٹرز خالی تھے جبکہ کئی مقامات پر عملہ بھی موجود نہیں تھا،پاسپورٹ بنوانے کیلئے آئے شہریوں نے وزیر داخلہ کے سامنے شکایات کے انبار لگا دئیے،شہریوں نے وزیر داخلہ کو بتایا کہ وہ صبح سے پاسپورٹ بنوانے کے لیے موجود ہیں، تاہم کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود ان کی باری نہیں آئی۔
ایک شہری نے شکایت کی کہ وہ چار گھنٹے سے انتظار کر رہا ہے، جبکہ ایک اور شہری نے بتایا کہ پاسپورٹ جلد بنوانے کے لیے دفتر کے باہر ایک ایجنٹ کو 5500 روپے دیے، شہریوں کا کہنا تھا کہ ایجنٹس دفتر کے باہر سرعام جلد کام کرانے کے عوض رقم طلب کرتے ہیں۔
ایک بزرگ شہری نے شکایت کی کہ اسے آج پاسپورٹ ملنا تھا تاہم عملے کی جانب سے بتایا گیا کہ اس کا پاسپورٹ ابھی پرنٹ نہیں ہوا۔
صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاسپورٹ آفس میں بدانتظامی اور فرائض سے غفلت پر شدید برہمی کا اظہار کیا،انہوں نے انچارج پاسپورٹ آفس ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد اسلم کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا۔
یہ بھی پڑھیں:اب ٹیچرز پیپرز چیک نہیں کرینگے؟ پنجاب میڈیکل فیکلٹی کے امتحانات کیلئے نیا نظام متعارف
محسن نقوی نے پاسپورٹ آفس کے باہر ایجنٹ مافیا کی موجودگی پر ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ایف آئی اے لاہور کو بھی عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا اور شہریوں کی شکایات کے ازالے کے لیے موقع پر ہی ضروری احکامات جاری کیے۔
وفاقی وزیر داخلہ نے شہریوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”میں آپ سے ذاتی طور پر معذرت خواہ ہوں،“ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک انتہائی افسوسناک اور ناقابل برداشت ہے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاسپورٹ آفس میں شہریوں کو تیز رفتار خدمات کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت پر بلاتفریق تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ شہریوں کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری بھی ہے اور فرض بھی، اس لیے پاسپورٹ دفاتر میں عوام کو درپیش مشکلات فوری طور پر دور کی جائیں اور خدمات کی فراہمی کا عمل مزید مؤثر بنایا جائے۔






