4

 آٹھ  اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا مشرقی یروشلم کے مشرق میں آبادکاری منصوبے کے خلاف مشترکہ مذمتی بیان

(اویس کیانی)  آٹھ  اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا مشترکہ مذمتی بیان جاری کر دیا گیا ہے۔ اس بیان میں مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی مسلسل غیر قانونی آبادکاری کی پالیسیوں کی مذمت کی گئی۔

مشترکہ بیان پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے جاری کیا۔

بیان میں وزرائے خارجہ نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیل کی مسلسل غیر قانونی آبادکاری کی پالیسیوں کی واضح اور دوٹوک مذمت کی۔

بیان میں مسلم ممالک نے مقبوضہ مشرقی یروشلم کے مشرق میں “E1” آبادکاری منصوبے اور تمام آبادکاری کی سرگرمیوں کو سختی سے مسترد کیا۔

انہوں نے اسرائیلی قابض حکام کے حمایت یافتہ آبادکاروں کے فلسطینی عوام اور ان کی املاک کے خلاف تشدد، خلاف ورزیوں اور حملوں کی بھی شدید مذمت کی۔

وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ ایسی کارروائیاں فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق کو کسی صورت ختم نہیں کر سکتیں۔ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں ۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات علاقائی و عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ “E1” آبادکاری منصوبہ ایک خطرناک پیش رفت ہے۔یہ خطرناک پیش رفت آبادکاری کی توسیع اور الحاق کے عمل کو مزید آگے بڑھاتا ہے۔

اس منصوبے سے مقبوضہ فلسطینی علاقے، خصوصاً مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے درمیان جغرافیائی تسلسل متاثر ہونے کا خطرہ ہے اس کے نتیجے میں 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست بشمول مشرقی یروشلم بطور دارلحکومت کے قیام اور اس کے عملی وجود کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

وزرائے خارجہ نے کہا کہ یہ اقدامات امن کے حصول کے لیے جاری بین الاقوامی کوششوں کو براہِ راست چیلنج کرتے ہیں۔انہوں نے بالخصوص صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع منصوبےکا حوالہ دیا، جس میں الحاق اور جبری بے دخلی کو واضح طور پر مسترد کیا گیا ہے۔

وزرائے خارجہ نے اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے تجویز کردہ طریقۂ کار، بشمول بورڈ آف پیس کے ذریعے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کے اس پختہ عزم کو بھی اجاگر کیا کہ مغربی کنارے کے الحاق کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تاکہ اس طرح سے خطے میں استحکام قائم ہو اور تنازع کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

وزرائے خارجہ نے ایک بار پھر تصدیق کی کہ دو ریاستی حل بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ م متعلقہ قراردادوں کے مطابق، منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کی جانب واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ دو ریاستی حل کو کمزور کرنے والے اقدامات کشیدگی میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ دو ریاستی حل کو کمزور کرنے والے اقدامات علاقائی و عالمی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ایسے اقدامات خطے میں دیرپا امن و استحکام کے امکانات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے احتساب یقینی بنانے کی تمام کوششوں کی حمایت کی۔ ان کوششوں میں غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیوں، بشمول “E1” منصوبے میں ملوث اداروں اور افراد کے خلاف مناسب بین الاقوامی اقدامات اور پابندیاں شامل ہیں۔

انہوں نے آبادکاری میں توسیع، الحاقی پالیسیوں کی حمایت، سہولت کاری یا ان پر عمل درآمد کرنے والے افراد اور اداروں کے خلاف بھی کارروائی کی حمایت کی جو  کرتے ہیں۔

وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا کہ غیر قانونی آبادکاریوں کے قیام، توسیع یا انہیں مستقل بنانے میں معاونت کرنے والی ہر قسم کی حمایت اور مالی معاونت ختم کی جائے۔

انہوں نے زور دیا کہ احتساب و جوابدہی کا فقدان خلاف ورزیوں کے تسلسل میں معاون بنتا ہے۔ احتساب و جوابدہی کا فقدان منصفانہ و جامع امن کے امکانات کو مزید کمزور کرتا ہے۔

وزرائے خارجہ نے “E1” آبادکاری منصوبے کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس منصوبے سے متعلق کیے گئے تمام اقدامات واپس لیے جائیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام آبادکاری کی سرگرمیاں فوری طور پر بند کی جائیں۔

انہوں نے ان تمام اقدامات کو بھی روکنے کا مطالبہ کیا جن کا مقصد مقبوضہ فلسطینی علاقے کے جغرافیائی اور آبادیاتی کردار کو تبدیل کرنا ہے۔

وزرائے خارجہ نے اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل، تمام ریاستوں اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

مشترکہ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ غیر قانونی آبادکاری کے پھیلاو کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

آٹھ وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں فلسطینی عوام کے تحفظ اور ان کے ناقابلِ تنسیخ حقوق  بشمول حق خودارادیت کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔ آخر میں وزرائے خارجہ نے بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ متعلقہ قراردادوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں