
(24 نیوز)بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق کیس میں چیف کمشنر اسلام آباد نے نظرثانی درخواست پر جلد از جلد سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں متفرق درخواست دائر کردی۔
چیف کمشنر اسلام آباد کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 18 اگست کا سپریم کورٹ کا عبوری حکم قانونی نکات کو نظرانداز کرتے ہوئے جاری کیا گیا، اس لیے عدالت اپنے حکم پر نظرثانی کرے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پریزن رولز 1978 کے تحت قیدی کو جیل سے باہر اسپتال منتقل کرنے کا باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے، جبکہ نجی اسپتال منتقلی سے متعلق بھی قانونی اور انتظامی تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں۔
چیف کمشنر اسلام آباد نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں کیس میں فریق بنا کر نوٹس جاری نہیں کیا گیا، حالانکہ عدالتی حکم پر عملدرآمد کی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے، درخواست میں آرٹیکل 10 اے کے تحت منصفانہ سماعت کے حق کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔
درخواست میں یہ اعتراض بھی اُٹھایا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو نجی اسپتال منتقل کرنے سے سیکیورٹی اور انتظامی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، جبکہ جیل قوانین کے تحت قیدیوں کے علاج کے لیے سرکاری طبی سہولیات دستیاب ہیں۔
چیف کمشنر اسلام آباد نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ 18 اگست کے حکم پر نظرثانی کی جائے اور نظرثانی درخواست کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 18 اگست کو بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ بعد ازاں انہیں پمز اسپتال لے جایا گیا، جہاں طبی معائنے کے بعد واپس اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں :نواز شریف کی فیصل آفریدی کی رہائش گاہ آمد، والدہ کے انتقال پر تعزیت






