
( ویب ڈیسک )وزیراعظم اپنا گھر پروگرام ’گھر ہو تو اپنا‘ کے تحت نجی بینکوں سے آسان اقساط پر ایک کروڑ روپے تک قرض حاصل کیا جا سکتا ہے۔
سکیم کے تحت اہل شہریوں کو ایک کروڑ روپے تک فنانسنگ فراہم کی جاسکتی ہے، جبکہ قرض کی زیادہ سے زیادہ مدت 20 سال مقرر کی گئی ہے۔
40 لاکھ روپے کا قرض 20 سال کی مدت کے لیے حاصل کرنے کی صورت میں ماہانہ قسط 26 ہزار 398 روپے بنتی ہے۔
اسی طرح 15 سال کی مدت پر ماہانہ قسط 31 ہزار 632 روپے جبکہ 10 سال کی مدت پر 42 ہزار 426 روپے ادا کرنا ہوں گے۔
سکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے درخواست دہندہ کا پاکستانی شہری اور درست قومی شناختی کارڈ کا حامل ہونا ضروری ہے۔ درخواست دہندہ کے نام پر پہلے سے کوئی رہائشی جائیداد نہیں ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:کم خرچ، بہتر زندگی:2026 میں شفٹ ہونے کیلئے دنیا کے 5 بہترین ممالک!
قرض سے نیا مکان یا فلیٹ خریدا جاسکتا ہے، اپنے ملکیتی پلاٹ پر گھر تعمیر کیا جاسکتا ہے، جبکہ پلاٹ خریدنے اور اس پر گھر بنانے کے لیے بھی فنانسنگ حاصل کی جاسکتی ہے۔
سکیم کے تحت 10 مرلہ یا 2,720 مربع فٹ تک کے گھر جبکہ 1,500 مربع فٹ تک کے فلیٹس یا اپارٹمنٹس اہل قرار دیے گئے ہیں۔
پروگرام کے تحت زیادہ سے زیادہ ایک کروڑ روپے تک قرض حاصل کیا جاسکتا ہے اور اس کی مدت 20 سال تک ہے۔ پہلے 10 سال کے لیے سرکاری مارک اپ سبسڈی بھی لاگو ہوتی ہے۔
فنانسنگ ٹو ویلیو تناسب 90:10 رکھا گیا ہے، یعنی جائیداد کی قیمت کا 10 فیصد حصہ درخواست دہندہ جبکہ بقیہ 90 فیصد بینک کی جانب سے فنانس کیا جائے گا۔
یوں کم آمدنی والے اور پہلی بار اپنا گھر بنانے کے خواہشمند شہریوں کے لیے یہ اسکیم گھر کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔






