
(24 ںیوز)سربراہ جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آئین میں ہے کہ قرآن و سنت کے منافی قانون نہیں بنایا جائے گا، حکمران آئین پر عمل نہیں کرتے تو یہ ان کی کوتاہی ہے۔
پشاور میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمارے اکابرین نے سیاسی جدوجہد کی تعلیمات دی ہیں، آج بھی ہم ان تعلیمات پر عمل کے محتاج ہیں،دفاعی طاقت ملک اور ریاست کی ضرورت ہے، پاکستان کی مضبوط دفاعی قوت کے قائل ہیں۔
اس دوران خطاب کرتے ہوئے مرکزی جنرل سیکریٹری عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ ملک کی موجودہ صورتحال برصغیر کی صورتحال سے مختلف نہیں، ہماری آواز دبانے کےلیے ہر حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو کونسلر کی سیٹ نہیں جیت سکتے انہیں ہمارے سامنے لایا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ قرآن کی تعلیمات کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی آج بھی ضرورت ہے،اللہ کی ذات اور اس کی جانب سے بھیجا گیا دین ہر انسان کی اصلاح کا ذریعہ ہے، دین اسلام کا مقصد معاشرے میں عدل قائم کرنا ہے، آئین میں واضح ہے کہ ملک میں قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ افسوس ہے کہ ر عمل درآمد نہیں ہوتا،ہمارے علماء کی جدوجہد کے نتیجے میں آئین میں یہ اصول طے کیا گیا، آئین پر عمل درآمد نہ ہونا حکمرانوں کی غفلت ہے، دشمن کے مقابلے میں دفاعی قوت کی ضرورت ہوتی ہے،جو قوت عوام کے اختیار میں ہے، وہ اسے حاصل کریں، ایک چیز قوت کا حصول ہے اور دوسری قوت کا استعمال ہے۔
انھوں نے کہا کہ اللہ نے دشمن کے دل میں دفاعی قوت کے ذریعے دھاک بٹھانے کا حکم دیا ہے،ہم نے کبھی دفاعی قوت سے انکار نہیں کیا، اگر سیاسی کارکن فوج کی حدود میں مداخلت نہیں کرسکتا تو ازروئے شریعت فوج کو بھی سیاست میں مداخلت کا حق نہیں،ابھی حال ہی میں قانون سازی کی گئی، لیکن اس پر کسی نے بحث نہیں کی، قانون سازی کی جو شکل سامنے آرہی ہے، وہ آئین سے متصادم نظر آتی ہے۔
سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ وزیراعظم کے اختیارات بھی ایک شخص میں مرکوز کردیے گئے ہیں، آئین کے منافی کوئی بھی قانون غیر مؤثر ہوگا،لیکن ابھی تک نہ اس کی نشاندہی کی گئی اور نہ ہی اسے غیر مؤثر قرار دیا گیا،ادارے کے اندر انتظامی تبدیلیوں سے ہمارا کوئی سروکار نہیں، تاہم پارلیمنٹ کے اختیارات مقتدرہ کے ایک فرد کو دے دیے گئے ہیں، کمانڈ اور کنٹرول کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس تھا۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم اصولی اختلاف کر رہے ہیں، کسی کو گالی تو نہیں دے رہے،اپوزیشن لیڈر سے ملاقات میں پارلیمنٹ کے اندر مشترکہ نکات پر متحد ہونے پر زور دیا،پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن کو مشترکہ موقف اختیار کرنا چاہیے تاکہ خرابیاں پیدا نہ ہوں، آج کل اپوزیشن کی اسی حوالے سے میٹنگز ہو رہی ہیں، ادارے کے اندر انتظامی تبدیلیاں لائیں اس سے ہمارا کوئی سروکار نہیں۔
انھوں نے کہا کہ وہ اختیارات جو پارلیمنٹ کے ہوتے ہیں وہ مقتدرہ کے ایک فرد کو دے دئیے گئے ہیں ، یہ کنٹرول اور کمانڈ وفاقی حکومت کا تھا ،ہم چیزوں پر اصولی اختلاف کررہے ہیں کسی کو گالی تو نہیں دے رہے ہیں ،اپوزیشن لیڈر کے پاس گیا اور پارلیمنٹ کے اندر مشترکات پر جمع ہونے پر زور دیا،پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن مشترکہ موقف اختیار کرسکیں تاکہ خرابیوں کو کسی حد تک روکا جاسکے۔
سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ آج کل اپوزیشن کی میٹنگ اس حوالے سے ہورہی ہیں، یہ نہیں چلے گا کہ میں طاقت ور ہو جو چاہو کرو یہ نہیں چلے گا،آج مغرب اعتدال پسندی پر زور دیتا ہے مگر اسرائیل کے مظالم کا زکر نہیں ہوتا،نہتے فلسطینیوں پر پابندی مگر ظالم اسرائیل کو روکا نہیں جاتا،امریکہ نے 20سال تک افغانستان پر بمباری کی مگر اسے کسی نے نہیں روکا،صوبے میں امن وامان کے سنگین مسائل پیدا ہوگئے ہیں، پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پولیس اہلکار خود امن کمیٹیاں قائم کرکے بغیر وردی پھر رہے ہیں، بنوں کے ڈی آئی جی کی سیکیورٹی ایک کانسٹیبل نے کلوز کردی ہے، بلوچستان میں ایک تھانیدار کی مار کے دعویداروں نے ایس ایچ آوز کا حال دیکھ لیا ،وزیر اعظم بیرونی دورے کررہا ہے اور ملک میں خونریزی ہورہی ہے،پاکستان،سعودی عرب اور ترکی کے اسلامی بلاک کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہیں، یہ اس طرف ایک قدم ہے کہ اسلامی دنیا امریکہ پر انحصار کم کررہا ہے اس کی حمایت کرتے ہیں ۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ ہے مگر گلگت اور کشمیر میں ایک دوسرے کے خلاف بیانات دیئےتھے،قومی اسمبلی میں پہلے اختلاف کرتے ہیں پھر ایک ہو جاتے ہیں،ملک میں جبر کا ماحول ہے اور اس میں وقت گزار رہے ہیں،اسلام جبر میں وقت گزارنے کے خلاف ہے ،جو طاقت کے زور پر مسلط ہوگااور معززین کو بے عزت کرے گا اس کے خلاف ہیں۔
سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ یہ رویہ درست نہیں جوآپ کا وفادار ہے قابل عزت ہے اور جو پاکستان کا وفادار ہے وہ غدار ہوگا،سی پیک کے پورے حصے مسلح گروہوں کے قبضے میں ہے،اب نئے صوبے کی بات کررہے ہیں،ملک کے ایک حصے اور دوسری حصے میں آگ لگی ہوئی ہے کیا اس صورت میں بھائی بیٹھ کر گھر تقسیم کریں گے؟نئے صوبے بنتے ہیں مگر نہ ماحول موجود ہے اور نہ تیاری ہے،ایک ادارے کے سربراہ کی خواہش ہے اور قوم پر بزور قوت فیصلہ مسلط کیا جارہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ فاٹا ادغام کے وقت بھی ہم نے مخالفت کی تھی اور وقت نے ثابت کردیا فیصلہ درست نہیں تھا،صوبوں کو کیوں توڑا جارہا ہے اس لئے کہ 18ویں ترمیم میں محصولات میں صوبوں کے حصے میں اضافہ ہوگا کمی نہیں کی جاسکے گی،یہ ہے وہ نکتہ جس سے صوبوں کو توڑا جارہا ہے تاکہ نیا این ایف سی ایوارڈ لایا جاسکے ،صوبوں کے اندر معدنی ذخائر جو وہاں کے عوام کا حق ہے اسے اپنے قبضے میں لینا چاہتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ان دو مقاصد کے لئے صوبوں کو تقسیم کیا جارہا ہے ،کراچی کوئٹہ شاہراہ غیر محفوظ ہے،ہماری شاہراہوں پر ناکے لگے ہوئے ہیں ہمیں گھٹنوں گھٹنوں روکا جاتا ہے،ہمیں ٹھنڈی زمین تو دو،ہم حکومت کے بھوکے نہیں جو ہمیں حکومت کا لالچ دیا جا رہا ہے
بلوچستان, خیبرپختونخوا میں جنگ ہے،کشمیر میں 3ماہ سے لوگ بیٹھے ہیں ان سے کوئی بات نہیں کر رہا،ہم مانتے ہیں آپ بڑے طاقتور ہے لیکن دسمبر 1971 میں ہتھیار ڈالنے سے پہلے ہم نے بڑے بڑے بول سنے تھے۔
سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ آپ آرمی چیف بھی ہو، چیف آف ڈیفینس فورسز بھی ہو، فیلڈ مارشل بھی ہو ،اس سے ہمارا کوئی اعتراض نہیں لیکن جو اختیارات پارلیمنٹ کے ہونے چاہیے وہ مقتدرہ کے ایک آدمی کو دے دئے گئے اور مزید اگر کسی فیصلے کی ضرورت ہوگی تو وفاقی حکومت کرے گی یعنی پارلیمنٹ کو اس سے نکال دیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ باعزت لوگوں کو ذلیل کر کے دو ٹکے کے لوگوں کو مسلط کیا جا رہا ہے،نئے صوبے بنانا ایک ادارے کی خواہش ہے جس کا مقصد وسائل پر قبضہ کرنا ہے،کوئٹہ چھاؤنی کے قریب ہنہ اوڑک میں حملے کر کے بے گناہ لوگوں کو شہید کیا گیا،بلوچستان میں حکومت کی رٹ ختم ہوچکی اور راستے محفوظ نہیں رہے،ہمیں پرامن زمین دی جائے، صوبوں کو توڑنے کے بعد کسی اور کی حکومت ہوگی۔
سربراہ جے یو آئی کے مطابق پشاور، بلوچ اور پشتون علاقوں میں خونریزی ہے جبکہ کشمیر میں تین ماہ سے دھرنا جاری ہے، گھر میں آگ لگی ہے اور تم بٹوارے کی باتیں کر رہے ہو،ملک میں جبر کا ماحول ہے، طاقت کی بنیاد پر قوم پر مسلط ہونے والوں کو بتا دیں اسلام میں جبر کی اجازت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں :ایک ہفتے میں 20 کلو آٹے کا تھیلا مزید 100 روپے مہنگا






