
(ویب ڈیسک) وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے بانی پی ٹی آئی کو شفا کے بجائے پمزہسپتال لے جانے کی اہم وجہ بتا دی۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے عدالتی حکم پر بانی پی ٹی آئی کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے بجائے پمز ہسپتال منتقل کرنے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کے علاج سے متعلق ہمارے پاس تمام تفصیلات موجود ہیں، انہیں عدالتی حکم پر شفا ہسپتال ہی لے کر جانا تھا، لیکن وہاں جو صورتحال پیدا ہوئی، اس کے بعد پروگرام تبدیل کیا گیا۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ بانی کو اڈیالہ جیل سے شفا ہسپتال لایا جا رہا تھا کہ وہاں مشکوک سرگرمیاں رپورٹ ہوئیں جس پرانہیں سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا، انٹیلی جنس رپورٹس تھیں کہ شفا ہسپتال میں مشکلات درپیش آسکتی ہیں۔
راناثنااللہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا بنیادی طور پر حکم تھا کہ بانی کا ماہر ڈاکٹرز کی موجودگی میں میڈیکل چیک اپ کیا جائے، حکومت نے خلوص نیت سے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل کیا ہے، اگر کسی جگہ پر چھوٹی موٹی کمی رہ گئی ہے تو اس کی وجوہات موجود تھیں، تمام تفصیلات کو عدالت میں پیش کرینگے، یقین ہے عدالت ان اقدامات کو سراہے گی۔
یہ بھی پڑھیں:نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو نئے صوبوں پر بات کرنے سے روک دیا
وزیراعظم کے مشیر نےمزید کہا کہ اگر اپوزیشن جماعتیں اکٹھی ہو رہی ہیں تو حکومت کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، جمہوریت میں پارٹیز الائنس بناتی ہیں، تاہم بانی پی ٹی آئی کی سیاست میں دوسری جماعتوں سے اتحاد اور مشترکہ جدوجہد شامل نہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ ان کے فلسفے کی موجودگی میں کوئی بھی اتحاد بن سکے،پی ٹی آئی اپنے بانی سے شروع ہو کر ان ہی پر ختم ہو جاتی ہے، پی ٹی آئی میں دوسرے یا تیسرے درجے کی لیڈر شپ نہیں بنی اور نہ ہی کسی نے بننے دی۔






