3

طلبا کے مستقبل سے کھلواڑ پرپشاور ہائیکورٹ کا اظہار برہمی،چیئرمین اور کنٹرولر امتحانات طلب

(ملک رحمان)پشاور ہائیکورٹ نے نویں جماعت کے طالب علم کو بیالوجی کے پرچے میں صفر نمبر دینے کے معاملے پر چیئرمین اور کنٹرولر امتحانات پشاور بورڈ کو طلب کر لیا۔

پشاور ہائیکورٹ میں پشاور بورڈ کی جانب سے نویں جماعت کے طالب علم کو بیالوجی میں صفر نمبر دینے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس اعجاز انور اور جسٹس بابر ستار نے کیس کی سماعت کی۔ 

دورانِ سماعت وکیل پشاور ایجوکیشن بورڈ نے اعتراف کیا کہ طالب علم کے پرچے کو غلط کوڈ نمبر دیا گیا تھا جس پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا،جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ یہ تو وکیل کا بیٹا تھا جو عدالت آ گیا تو حقیقت سامنے آگئی، لیکن ایسے کتنے ہی اور طلباء ہوں گے جن کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے اور وہ عدالت تک نہیں پہنچ سکتے۔ 
 عدالت نے استفسار کیا کہ بورڈ والے بچوں کے مستقبل کے ساتھ کیوں کھیل رہے ہیں اور اسے معمول کیوں بنا لیا گیا ہے؟
وکیل درخواست گزار امین الرحمن یوسفزئی نے عدالت کو بتایا کہ پشاور بورڈ میں ہزاروں بچوں نے ری چیکنگ کے لیے اپلائی کیا ہے۔ 
عدالت نے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے طالب علم کا پرچہ طلب کر لیا اور چیئرمین پشاور ایجوکیشن بورڈ و کنٹرولر امتحانات کو ذاتی حیثیت میں آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی سے ہی بہتری آئے گی۔

یہ بھی پڑھیں :  ہربنس پورہ میں بڑے بھائی کی فائرنگ سے چھوٹا بھائی جاں بحق، ملزم گرفتار

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں