خضدار: جھالاوان زمیندار ایکشن کمیٹی ضلع خضدار کی کال پر یوریا کھاد کی عدم دستیابی اور اس پر عائد سرکاری پابندی کے خلاف زمینداروں نے عبدالوہاب غلامانی کی قیادت میں کوشک کے مقام پر کوئٹہ-کراچی آر سی ڈی قومی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لئے مکمل طور پر بلاک کر دیا۔ سڑک کی بندش کے باعث شاہراہ کے دونوں جانب گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دھرنے کی قیادت جھالاوان زمیندار ایکشن کمیٹی کے صدر عبدالوہاب غلامانی کر رہے تھے، جبکہ وڈھ، نال، زیدی، باغبانہ، وہیر، توتک اور فیروز آباد سمیت ضلع بھر سے زمینداروں، کسانوں اور سیاسی و سماجی رہنماؤں کی بڑی تعداد نے شرکت کرتے ہوئے زمینداروں کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی کیا۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے زمیندار ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے موقف اختیار کیا کہ حکومت کی جانب سے گزشتہ 45 دنوں سے یوریا کھاد کی نقل و حمل اور فروخت پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے، جس کے باعث فصلیں شدید متاثر اور تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلرز کے پاس یوریا کھاد کا وافر اسٹاک موجود ہے لیکن سرکاری پابندی کی وجہ سے زمینداروں کو کھاد فراہم نہیں کی جا رہی۔ اس کے علاوہ کچھ عناصر کی جانب سے بلیک مارکیٹ میں دگنی قیمت پر یوریا فروخت کرنے کی بھی شکایت کی گئی۔ زمینداروں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ صورتحال کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر شناختی کارڈ کے ذریعے اسٹاک میں موجود کھاد زمینداروں میں تقسیم کی جائے اور بعد ازاں ایک شفاف طریقہ کار کے تحت مقررہ سرکاری نرخوں پر کھاد کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ کی جانب سے ایڈیشنل کمشنر عبداللہ مینگل مظاہرین سے مذاکرات کے لیے دھرنے کے مقام پر پہنچے۔ مذاکرات کے دوران انتظامیہ نے جھالاوان زمیندار ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کے علاوہ آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ایڈوکیٹ بشیر احمد جتک، انجمن تاجران کے صدر حافظ حمید اللہ مینگل اور نیشنل پارٹی کے ریجنل سیکرٹری ایڈوکیٹ عبدالحمید بلوچ سے مزاکرات کیئے
مذاکرات کے دو ادوار کے بعد ایڈیشنل کمشنر نے زمینداروں کو یقین دہانی کرائی کہ اگلے جمعہ تک خضدار کے ڈیلرز کے پاس موجود یوریا کھاد کا تمام اسٹاک زمینداروں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد ایک شفاف اور پائیدار میکنزم بنایا جائے گا تاکہ تمام زمینداروں کو ضرورت کے مطابق اور مارکیٹ ریٹ پر کھاد میسر آ سکے۔ گراں فروشی اور بلیک مارکیٹنگ کی شکایات پر ایڈیشنل کمشنر نے واضح کیا کہ بلیک میں کھاد فروخت کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انتظامیہ کی جانب سے تسلی بخش یقین دہانی کے بعد جھالاوان زمیندار ایکشن کمیٹی نے اپنا دھرنا عارضی طور پر موخر کرنے کا اعلان کر دیا۔ تاہم جھالاوان زمیندار ایکشن کمیٹی کی قیادت نے واضح کیا کہ اگر مقررہ وقت کے اندر مطالبات پر عملی درآمد نہ ہوا تو زمیندار اپنے حقوق کے حصول کے لیے دوبارہ مکمل اور پرُعزم انداز میں پرامن احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔احتجاجی دھرنے اور نمائندہ اجلاس میں مختلف تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔ دھرنا کی قیادت جھالاوان زمیندار ایکشن کمیٹی کے صدر عبدالوہاب غلامانی، اور نائب صدر میر محمد رئیسانی کررہے تھے۔ جبکہ وڈھ زمیندار ایکشن کمیٹی: صدر میر محمد انور رئیسانی، فنانس سیکرٹری ڈاکٹر حسن خان رئیسانی، نصیر احمد رئیسانی، حافظ عبدالرزاق رئیسانی۔ نال زمیندار ایکشن کمیٹی: صدر محمد ہاشم سیاہ پاد، نائب صدر ارباب بزگر، سینئر رکن حاجی دین محمد پندرانی۔زیدی زمیندار ایکشن کمیٹی: صدر نورالدین پندرانی، جنرل سیکرٹری محمد اسلم موسیانی۔ توتک زمیندار ایکشن کمیٹی کے صدر عبیداللہ قلندرانی ۔فیروز آباد زمیندار ایکشن کمیٹی: صدر حافظ محمد انور زہری، ٹکری سیف اللہ کھیازئی۔ باغبانہ زمیندار ایکشن کمیٹی کے صدر محمد اعظم زہری۔ مولہ زمیندار ایکشن کمیٹی کے صدر ماسٹر رحیم بخش زہری، جنرل سیکرٹری قادر بخش زنگیجو۔ انجمن تاجران کے صدر حافظ حمید اللہ مینگل، آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ایڈوکیٹ بشیر احمد جتک، صدر اربابِ کمپلیکس بابا شفیق چنال۔نیشنل پارٹی کے ریجنل سیکرٹری ایڈوکیٹ عبدالحمید بلوچ، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما میر جمعہ خان شکرانی، اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے رہنما سونا خان مینگل، رئیس اعجاز مینگل اور محمد انور مینگل۔ کسان بورڈ کے چیئرمین شاہین براہوئی۔ رضا محمد خدرانی۔ سردار محمد نواز چھانگا۔ اور محمد ایوب غلامانی۔اس موقع پر پولیس انتظامیہ کی جانب سے ڈی ایس پی محمد عالم لہڑی اور سینئر پولیس آفیسر عبدالحق موسیانی سمیت صحافی برادری کی بھی موجود تھی۔
11






