حب: پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے ترجمان برائے بلوچستان میر علی حسن زہری نے صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی کے 31 اگست کے بلوچستان اسمبلی اجلاس میں دیے گئے بیان پر واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صادق عمرانی کی جانب سے اسمبلی میں دیا گیا بیان نہ پیپلز پارٹی کی پالیسی ہے اور نہ ہی اسے پارٹی کی قیادت یا پیپلز پارٹی بلوچستان کی حمایت حاصل ہے۔
میر علی حسن زہری نے کہا کہ صادق عمرانی کا مذکورہ بیان ان کی ذاتی حیثیت میں دیا گیا بیان تھا اور پیپلز پارٹی بلوچستان اس بیان کی حمایت نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ چند روز قبل بھی انہوں نے اپنی ذاتی حیثیت میں مذکورہ بیان پر افسوس اور مذمت کا اظہار کیا تھا، جبکہ آج وہ پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے ترجمان برائے بلوچستان کی حیثیت سے واضح کرتے ہیں کہ پارٹی اس بیان کو مسترد کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ایک جمہوری جماعت ہے اور پارٹی قیادت کی جانب سے کسی بھی موقع پر ایسا کوئی ڈائریکشن نہیں دیا گیا کہ ریاستی اداروں، کسی حکومتی فورم یا ملک کے کسی بھی ذمہ دار ادارے کے خلاف اس نوعیت کا بیان دیا جائے۔ صادق عمرانی کا بیان ان کا ذاتی فعل اور ذاتی رائے تھی، اسے کسی صورت پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف قرار نہیں دیا جا سکتا۔
میر علی حسن زہری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کی ترقی، امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ بلوچستان کے مسائل کا حل محاذ آرائی، الزام تراشی یا اداروں کے درمیان فاصلے پیدا کرنے میں نہیں بلکہ بات چیت، سیاسی مفاہمت، باہمی احترام اور مشترکہ کوششوں میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ میر محمد صادق عمرانی ان کے سینئر ہیں اور صوبائی وزیر بھی ہیں، اس لیے وہ ذاتی احترام کو برقرار رکھتے ہوئے صرف ان کے بیان پر اپنا سیاسی اور اصولی مؤقف دے رہے ہیں۔
میر علی حسن زہری نے کہا کہ اسلام آباد میں منعقدہ امن کانفرنس میں بلوچستان سے شریک اراکین اسمبلی اور قبائلی عمائدین کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ “گالیاں کھا کر اور بے عزت ہو کر واپس آئے” ایک ایسا بیان ہے جو خود ایک سنجیدہ سیاسی فورم اور منتخب نمائندوں کے وقار کے حوالے سے سوالات پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ خود اس امن کانفرنس میں نہ صرف شریک تھے بلکہ اس کے چشم دید گواہ بھی ہیں۔ ان کے لیے یہ بات باعثِ حیرت ہے کہ اس نوعیت کا بیان سامنے آیا، کیونکہ کانفرنس کے میزبانوں اور منتظمین نے تمام شرکاء، خصوصاً بلوچستان سے آنے والے نمائندوں کے ساتھ نہایت عزت و احترام اور خلوص کا مظاہرہ کیا اور پاکستان اور بلوچستان کی روایتی رسم و رواج کے مطابق بہترین مہمان نوازی کی۔
میر علی حسن زہری نے کہا کہ ان کی موجودگی میں کانفرنس کے دوران شرکاء کے ساتھ کسی قسم کی توہین آمیز یا غیر مناسب صورتحال پیش نہیں آئی، بلکہ تمام مہمانوں کا احترام اور وقار ملحوظ رکھا گیا۔ اسی لیے 31 اگست کو اسمبلی میں دیا گیا مذکورہ بیان ان کے لیے آج بھی باعثِ حیرت ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی بلوچستان اپنی قیادت کی پالیسی کے مطابق آئین، پارلیمان، جمہوری اداروں اور ریاستی اداروں کے احترام پر یقین رکھتی ہے اور بلوچستان کے وسیع تر مفاد میں تمام متعلقہ اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مثبت اور تعمیری انداز میں کام جاری رکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ ان کا یہ مؤقف کسی ذاتی اختلاف کی بنیاد پر نہیں بلکہ پارٹی پالیسی، جمہوری اقدار اور سیاسی ذمہ داری کے تحت ہے۔






