3

نورین نیازی کا بیان ذاتی رائےہےپارٹی پالیسی کا حصہ نہیں؛بیرسٹر گوہر

(24نیوز)چیئرمین پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ نورین نیازی نے جو کچھ کہا وہ ان کی ذاتی رائے ہے، یہ پارٹی پالیسی کا حصہ نہیں۔

اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اللہ کے کرم سے معرکۂ حق میں کامیابی ملی اگر کوئی دشمن دوبارہ جارحیت کی کوشش کرے گا تو اسے پہلے سے بھی سخت جواب دیا جائے گا،انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہے، کوئی دشمن ملک کو شکست نہیں دے سکت، فوج کی قربانیوں اور شہداء کے حوالے سے کسی کو لب کشائی نہیں کرنی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ بانی کی بہنیں سیاست میں نہیں ہیں،نہ وہ پارٹی کی کوئی پوزیشن ہولڈ کرتی ہیں،ایک ذاتی بیان ہے اسے آوٹ آف کانٹیسٹ نہ لیا جائے،جب ایسے بیانات کو میڈیا میں لایا جاتا یے تو ایک کے پیچھے دوسرا اجاتا ہے اور بات گھمبیر ہو جاتی ہے،میں یہ سمجھتا ہوں اس بات کو یہیں چھوڑیں اور آگے بڑھیں۔ 

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشت گردی ملک کے لیے ناسور ہے، اس کا خاتمہ ہوگا تو ترقی اور استحکام آئے گا، ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مسائل کا دیرپا سیاسی حل نکالنا چاہیے تاکہ ملک موجودہ حالات سے باہر آ سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ قائمہ کمیٹیوں اور جوڈیشل کمیشن کا ہمارا بائیکاٹ ہے،اس وقت تک یہی فیصلہ ہے،ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ مذاکرات ہوں،بات چیت ہو ،ابھی یہی اطلاع آئی ہے کہ ازادکشمیر کے الیکشن کو ری شیڈول کرکے تین حصوں میں کر دیا گیا ہے۔

چیئرمین کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس یہ رائے ضرور موجود تھی کہ بائیکاٹ کے فیصلہ پر نظرثانی کرلیں،بائیکاٹ کے فیصلہ کے حوالے سے نظرثانی پر اتفاق رائے نہیں ہوا،ابھی تک آزادکشمیرانتخابات کا بائیکاٹ کا فیصلہ ہے اگر حالات بہتر ہوئے تو اس فیصلہ پر نظرثانی کی جاسکتی ہے۔

بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ ہم مذاکرات کی طرف ابھی تک بڑھے ہی نہیں،پہلے کہا کہ مذاکرات پیشکش کی حد تک ہیں،اگر میٹنگ ہوتی تو کچھ چیزیں طے ہوتی،میری خواہش ہے کہ سیاسی مسائل کا لانگ ٹرم سیاسی حل نکالا جائے،تاکہ ملک بھی ان حالات سے نکل جائے۔

یہ بھی پڑھیں :  سرکاری ملازمین سے غیر ملکی شہریت کا بیان حلفی  طلب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں