
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج کے لیے نامزد کیے جانے والے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب محمد امجد پرویز کی بطور ایڈووکیٹ جنرل خدمات کو قانونی حلقوں میں نمایاں قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کی سربراہی میں ایڈووکیٹ جنرل آفس پنجاب نے آئینی، مالیاتی، ٹیکس، سرکاری اراضی اور پالیسی سے متعلق اہم مقدمات میں حکومت پنجاب کی مؤثر پیروی کرتے ہوئے اربوں روپے کے سرکاری مفادات کا تحفظ یقینی بنایا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایڈووکیٹ جنرل آفس نے مختلف عدالتی مقدمات میں کامیاب پیروی کے ذریعے پنجاب حکومت کے 4 کھرب 67 ارب روپے سے زائد کے مالیاتی و قانونی مفادات کا تحفظ کیا، جبکہ صوبے بھر میں 41 ہزار 877 کنال، 12.5 ایکڑ اور 160 مربع سرکاری اراضی قبضہ مافیا اور غیر قانونی دعویداروں سے واگزار کرائی گئی۔
سرکاری اراضی سے متعلق اہم مقدمات میں سپریم کورٹ سے بہاولپور کی 35 ہزار 500 کنال قیمتی سرکاری زمین کی منتقلی کالعدم قرار دلوانا، مری کی 708 کنال پرائم اسٹیٹ لینڈ کی غیر قانونی الاٹمنٹ منسوخ کرانا، چونیاں میں 1451 کنال سرکاری اراضی جعلسازی سے بچانا، منڈی بہاؤالدین میں 160 مربع اراضی پر ملکیتی دعویٰ مسترد کرانا اور لاہور میں 1345 کنال قیمتی سرکاری زمین واگزار کرانا نمایاں کامیابیاں قرار دی جا رہی ہیں۔ اسی طرح 90 شاہراہ قائداعظم کی سرکاری عمارت سے متعلق مقدمے میں حکومت کے حق میں فیصلہ آنے سے تقریباً 20 ارب روپے مالیت کے سرکاری مفادات محفوظ ہوئے، جبکہ ایک اور مقدمے میں 200 کنال قیمتی سرکاری اراضی بھی حکومت کے حق میں واگزار کرائی گئی۔ٹیکس اور ریونیو کے شعبے میں بھی ایڈووکیٹ جنرل آفس نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
پنجاب ریونیو اتھارٹی کے حق میں فیصلوں کے نتیجے میں سالانہ سیکڑوں ارب روپے کے ریونیو کا تحفظ ممکن ہوا۔ مالی سال 2025 میں پنجاب ریونیو اتھارٹی نے 263 ارب روپے سے زائد پنجاب سیلز ٹیکس وصول کیا، جبکہ مالی سال 2025-26 میں 174 ارب روپے سے زائد ریونیو پنجاب حکومت کو فراہم کیا۔ کینٹ بورڈ ٹیکس کیس میں حکومت کے حق میں فیصلہ آنے سے اربوں روپے کی وصولیوں کی راہ ہموار ہوئی، جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے پراپرٹی ٹیکس سے متعلق 138 یکساں درخواستیں مسترد کرکے 90 کروڑ روپے کا ریونیو محفوظ بنایا۔ سیتا فیبرکس کیس میں 38 کروڑ 87 لاکھ روپے سے زائد پراپرٹی ٹیکس کی وصولی بھی یقینی بنائی گئی۔ علاوہ ازیں پنجاب ریونیو اتھارٹی کے 600 ارب روپے سالانہ ریونیو سے متعلق اہم مقدمہ بھی حکومت پنجاب کے حق میں فیصلہ ہوا۔آئینی اور پالیسی نوعیت کے مقدمات میں بھی حکومت کو اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ پنجاب پروٹیکشن آف اموویبل پراپرٹی ایکٹ 2025 کے خلاف دائر 400 سے زائد آئینی درخواستیں خارج ہوئیں، پنجاب پرائس کنٹرول ایکٹ حکومت کے حق میں برقرار رہا، انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 21-F کے خلاف درخواست مسترد ہوئی، جبکہ پنجاب چیریٹیز ایکٹ 2018 کے تحت خیراتی اداروں کی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی۔
سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم (CMIT) کے قانونی اختیارات کی بھی توثیق کی۔سرکاری ملازمین اور انتظامی امور سے متعلق مقدمات میں بھی حکومت کو نمایاں قانونی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی سے متعلق درخواستیں مسترد ہونے سے حکومت پر اربوں روپے کا مستقبل کا مالی بوجھ ختم ہوا، جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ پروجیکٹ ملازمین کو ریگولرائزیشن کا قانونی حق حاصل نہیں۔ مشترکہ مقابلے کے امتحانات کے خلاف آئینی درخواستیں بھی خارج ہوئیں، جس سے حکومت کو ممکنہ مالی نقصان سے بچایا گیا۔دیگر اہم مقدمات میں واران ٹورز کیس میں 5 ارب 2 کروڑ روپے کے دعوے میں پنجاب حکومت کامیاب رہی، حسنین کوٹیکس کیس میں 53 کروڑ 72 لاکھ روپے سے زائد رقم محفوظ بنائی گئی، جبکہ واٹر چارجز کیس میں حکومت کے حق میں فیصلے سے محکمہ آبپاشی کے لیے سالانہ 20 کروڑ روپے اضافی ریونیو کا تحفظ ممکن ہوا۔ اسی طرح پنجاب ڈرگ رولز 2007 پر عملدرآمد کو لازمی قرار دے کر حکومت کے قانونی مؤقف کو مزید مضبوط بنایا گیا۔قانونی ماہرین کے مطابق محمد امجد پرویز کی بطور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خدمات کے دوران حاصل ہونے والی یہ عدالتی کامیابیاں نہ صرف حکومت پنجاب کے مالیاتی اور قانونی مفادات کے تحفظ میں اہم ثابت ہوئیں بلکہ سرکاری اراضی، ریونیو، آئینی معاملات اور عوامی مفاد سے متعلق مقدمات میں بھی مضبوط عدالتی نظائر قائم ہوئیں، جو ان کے عدالتی و پیشہ ورانہ تجربے کی عکاسی کرتی ہیں۔






