4

پی ٹی آئی میں اختلافات، شیر افضل مروت نے نورین خان اور عظمیٰ خان کے بیانات پر ردعمل دے دیا

(ویب ڈیسک)پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی شیر افضل مروت کا کہنا ہے نورین خان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کے بیانات سے ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ دلیل، جواب اور احتساب سے فرار اختیار کر کے دھمکیوں، کردار کشی اور گالم گلوچ کو سیاسی حکمتِ عملی بنا لیا گیا ہے۔ افسوس کہ پی ٹی آئی آفیشل ایک سیاسی پلیٹ فارم کے بجائے گالم گلوچ بریگیڈ کا ترجمان بن چکا ہے۔

اپنے ایکس بیان میں انہوں نے کہا جہاں تک میرے الزامات کا تعلق ہے، میں آج بھی اپنے ہر مؤقف پر قائم ہوں۔ اگر میرے کسی بیان کو جھوٹ سمجھتے ہیں تو عدالتیں موجود ہیں، تحقیقات کے ادارے موجود ہیں، حقائق سامنے لے آئیں۔ محض دھمکیوں اور بلند آہنگ دعووں سے سچ تبدیل نہیں ہوتا۔میری رائے میں پارٹی کی موجودہ تباہی، انتشار، کارکنوں کی بددلی اور تنظیمی زوال کی سب سے بڑی ذمہ داری خان صاحب کی بہنوں اور ان کے گرد قائم غیر منتخب ٹولے پر عائد ہوتی ہے۔ جن لوگوں نے کارکنوں، منتخب نمائندوں اور نظریاتی ساتھیوں کو دیوار سے لگایا، آج وہی پارٹی کے زوال پر آنسو بہانے کا ڈرامہ کر رہے ہیں۔ 

شیر افضل مروت نے کہا خیبر پختونخوا کا محکمۂ صحت گزشتہ تیرہ برس سے نام نہاد اصلاحات اور RTI ماڈل کے تجربات کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ عوام بہتر جانتے ہیں کہ ہسپتالوں، ادویات، طبی عملے اور صحت کی سہولیات کی کیا حالت ہے۔ ان پالیسیوں کے معماروں اور سرپرستوں سے سوال پوچھنا جرم نہیں بلکہ عوامی حق ہے۔جہاں تک مقدمات اور دھمکیوں کا تعلق ہے، میں انہیں ایک خواجہ سرا کی للکار سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو لوگ عوامی میدان میں جواب دینے کی ہمت نہیں رکھتے، وہ مخالفین کو ڈرانے کے خواب دیکھتے ہیں۔ میں نہ پہلے ڈرا ہوں، نہ آج ڈرتا ہوں اور نہ آئندہ ڈروں گا۔ میری سیاست کا فیصلہ سوشل میڈیا بریگیڈ نہیں بلکہ عوام اور حقائق کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:جلدی جلدی ٹینکیاں فل کروا لیں! ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند رکھنے کا اعلان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں