پسنی (روزنامہ ایگل حب بلوچستان / رپورٹ قمبر حسین ) پسنی میں پانی کی فراہمی کے معاملے پر سیاسی و عوامی تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔ سماجی و سیاسی شخصیت میر سلمان نے پسنی کے پانی کے تحفظ کے لیے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شہر کے حصے کا پانی کسی صورت متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔
میر سلمان کا کہنا ہے کہ پسنی پہلے ہی شدید آبی مشکلات سے دوچار ہے، ایسے میں شہر کو پانی فراہم کرنے والے مرکزی چینل پر 24 انچ کی پائپ لائن کی تنصیب نے عوام کے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔ ان کے مطابق پانی کی تقسیم سے متعلق فیصلوں میں پسنی کے عوام کے بنیادی حق کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
دوسری جانب گوادر میں پانی کی قلت دور کرنے کے لیے مختلف ادوار میں ڈیسلیشن پلانٹس کے منصوبے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ سرکاری CPEC ریکارڈ کے مطابق گوادر میں 1.2 ملین گیلن یومیہ (MGD) ڈیسلیشن پلانٹ مکمل کیا جاچکا ہے، جبکہ 5 MGD ڈیسلیشن پلانٹ بھی گوادر کے لیے درج سرکاری منصوبوں میں شامل ہے۔
2023 میں چین کی امداد سے مکمل ہونے والے 1.2 MGD پلانٹ کو گوادر میں پینے کے پانی کی قلت کے حل کے لیے اہم منصوبہ قرار دیا گیا تھا۔ بعد ازاں 2025 میں اس پلانٹ کو بجلی فراہم کرنے اور اسے فعال کرنے کے حوالے سے پیش رفت کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
اس صورتحال میں پسنی کے سیاسی و عوامی حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ گوادر کے لیے ڈیسلیشن پلانٹس اور دیگر آبی منصوبوں پر کام ہونے کے باوجود پسنی کے شہریوں کو اپنے بنیادی پانی کے ذریعے کے حوالے سے مسلسل خدشات کا سامنا کیوں ہے؟
میر سلمان نے مطالبہ کیا ہے کہ گوادر اور پسنی کے لیے جاری تمام آبی منصوبوں، ڈیسلیشن پلانٹس کی موجودہ صورتحال، پیداواری صلاحیت اور پانی کی تقسیم کا مکمل ریکارڈ عوام کے سامنے لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں سیاسی جماعتوں، سماجی رہنماؤں اور عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لے کر پسنی کے پانی کے تحفظ کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
پسنی کے عوامی حلقوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ پانی کی تقسیم کے معاملے میں شفافیت اختیار کی جائے اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کیا جائے جس سے پسنی کی موجودہ پانی کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔






