2

چینی گاڑیوں کی دنیا بھر میں دھوم! اپنے ہی ملک میں فروخت کیوں گر رہی ہے؟

(  ویب ڈیسک )چینی گاڑیوں کی بیرون ملک فروخت میں غیر معمولی تیزی دیکھی جارہی ہے، تاہم دنیا کی سب سے بڑی آٹو مارکیٹ چین میں مقامی گاڑیوں کی فروخت مسلسل کمی کا شکار ہے۔

 غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطا بق چین میں جولائی کے دوران کاروں کی فروخت گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 20 فیصد کم ہوکر 14 لاکھ 70 ہزار گاڑیوں تک پہنچ گئی، جو مسلسل دسویں ماہ کمی ہے۔

اس کے برعکس چین کی گاڑیوں کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا اور جولائی میں یہ تعداد 88 فیصد بڑھ کر 9 لاکھ 23 ہزار گاڑیوں تک پہنچ گئی۔

رپورٹ کے مطابق چین میں کمزور صارف طلب، شدید مسابقت اور کئی برس سے جاری قیمتوں کی جنگ کے باعث مقامی مارکیٹ میں اضافی پیداواری صلاحیت کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔ ایسے حالات میں چینی کار ساز کمپنیاں یورپ، جنوب مشرقی ایشیا اور دیگر عالمی مارکیٹوں میں تیزی سے توسیع کررہی ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں:کیا اب سونا خریدنا چاہیے یا بیچنا..؟خریداروں کیلئے اہم خبر

BYD، گیلی اور چیری جیسی چینی کمپنیاں عالمی مارکیٹ میں اپنی موجودگی بڑھا رہی ہیں، جس سے ٹویوٹا اور ووکس ویگن سمیت روایتی جاپانی اور یورپی کار ساز کمپنیوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

رواں سال کی پہلی ششماہی میں چین میں مقامی کاروں کی فروخت میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 23 لاکھ گاڑیوں کی کمی ہوئی، جو تقریباً 20 فیصد بنتی ہے۔ یہ کمی جاپان میں اسی عرصے کے دوران ہونے والی تمام نئی گاڑیوں کی رجسٹریشن کے تقریباً برابر ہے۔

دوسری جانب اسی عرصے میں چین کی گاڑیوں کی برآمدات میں 71 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق BYD نے بھی ملکی مارکیٹ میں فروخت میں 35 فیصد کمی کو بیرون ملک فروخت میں 79 فیصد اضافے کے ذریعے کافی حد تک پورا کیا۔ 2026 میں چین سے باہر برازیل اور برطانیہ کمپنی کی بڑی سنگل کنٹری مارکیٹس بن کر سامنے آئی ہیں۔

چینی گاڑیوں کی عالمی پیش قدمی کا سب سے نمایاں اثر یورپی مارکیٹ میں دیکھا جارہا ہے۔ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں یورپ کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں چینی کمپنیوں کا حصہ بڑھ کر تقریباً 16 فیصد ہوگیا، جو چار سال قبل صرف 3 فیصد تھا۔

الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں بھی چینی برانڈز کی پوزیشن مضبوط ہے اور یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی شپمنٹس میں ان کا حصہ تقریباً ایک چوتھائی تک پہنچ گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق چینی کمپنیوں کو صرف کم قیمت گاڑیوں کا فائدہ حاصل نہیں بلکہ بیٹری ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر، الیکٹریفکیشن، جدید فیچرز، مضبوط سپلائی چین اور تیز رفتار نئی مصنوعات متعارف کرانے کی صلاحیت بھی انہیں عالمی مارکیٹ میں مسابقتی برتری دے رہی ہے۔

 مزید پڑھیں:ٹرمپ کا  بڑا اعلان! دنیا بھر میں تشویش بڑھ گئی

کاؤنٹرپوائنٹ ریسرچ کے مطابق 2030 تک چینی برانڈز یورپ کی مجموعی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں 20 فیصد سے زائد جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ میں تقریباً 29 فیصد حصہ حاصل کرسکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپی محصولات چینی گاڑیوں کی پیش قدمی کی رفتار کو کم تو کرسکتے ہیں، تاہم اسے مکمل طور پر روکنے کا امکان کم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں