
(24نیوز)وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ آئینِ پاکستان کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر قسم کے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم اگر کوئی ریاستِ پاکستان کو توڑنے کا سوچتا ہے تو ایسی سوچ پر کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور بلوچستان لازم و ملزوم ہیں تا قیامت قائم و دائم رہیں گے، تشدد، سوشل میڈیا اور دہشت گردوں کی لیجیٹیمیٹ وائسز ریاست کے خلاف نفرت کو فروغ دے رہی ہیں،انہی حربوں کے ذریعے ریاستِ پاکستان کو کمزور اور تقسیم کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہاکہ غیر متوازن ترقی تشدد کی بنیادی وجہ نہیں، آج تربت اور بلوچستان کے کئی دیگر علاقے زیادہ ترقی یافتہ ہیں، کیا وہاں یہ نام نہاد تحریکیں ختم ہو گئی ہیں؟ ریاست مخالف عناصر پسماندگی کے خاتمے یا ترقی کے لیے نہیں بلکہ بندوق کے زور پر اپنا نظریہ مسلط کرنا چاہتے ہیں، ریاست مخالف عناصر پاکستان کو کیک کی طرح ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔
سرفراز بگٹی کاکہناتھا کہ آئینِ پاکستان کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر قسم کے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم اگر کوئی ریاستِ پاکستان کو توڑنے کا سوچتا ہے تو ایسی سوچ پر کوئی بات چیت نہیں ہو سکتی، ان کاکہناتھا کہ ریاست ہر چیز سے مقدم ہے، قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، ریاستِ پاکستان کے لیے اپنی جان بھی نچھاور کرنے سے دریغ نہیں کریں گے، گورننس سے متعلق شکایات اور تحفظات ہو سکتے ہیں، لیکن ریاست کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہاکہ میرٹ پر مبنی نظام ہی نوجوانوں کا اعتماد بحال کرنے کا واحد مؤثر ذریعہ ہے، آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے مکمل میرٹ پر بھرتیوں کو یقینی بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:مستحق طلبا کو 10 فیصد کوٹہ نہ دینے پر بشریٰ انجم کا سکولز کیخلاف کارروائی کا حصہ بننے کا فیصلہ






