
(24نیوز) پمز سانحہ انکوائری کی ابتدائی رپورٹ کی مکمل تفصیلات سامنے آ گئیں۔یہ ابتدائی رپورٹ 11 صفحات پر مشتمل ہے اور پبلک کے لئے ریلیز کر دی گئی ہے۔
آج پرائم منسٹر ہاؤس میں کمیٹی کے ارکان کے ساتھ میٹنگ کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے رپورٹ کی سفارشات کے مطابق پمز کے ای ڈی عمران سکندر سمیت آٹھ سینئیر افسروں کو معطل کر کے ان پر مقدمہ بنانے کے حکم کے ساتھ یہ ہدایت بھی دی تھی کہ رپورٹ کو پبلک کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ حقائق سب کو معلوم ہو جائیں۔
گیارہ صفحات کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پمز میں صبح ساڑھے سات بجے نومولود بچوں کے انتہائی نگہداشت کے سنٹر میں آگ لگنے کے وقت سپروائزری سٹاف موقع پر موجود نہیں تھا۔
پمز میں ہنگامی صورتِ حال سے متعلق کوئی ایس او پیز یا ٹریننگ موجود نہیں۔
وزیراعظم نے اس رپورٹ کی روشنی میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر عمران سکندر کو عہدہ سے معلط کرنے کے ساتھ ایچ او ڈی نیونیٹولوجی ڈاکٹر سعدیہ ریاض اور سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم بھی معطل ،جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایم سی ایچ ڈاکٹر مطاہر شاہ کو بھی معطل کرنے اور ان سب کے خلاف محکمانہ کارروائی کے ساتھ ضروری فوجداری مقدمہ بنانے کا بھی حکم دیا۔
وزیراعظم جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر نان میڈیکل پمز چودھری وارث علی رضا ،ڈائریکٹر ایم سی ایچ ڈاکٹر نوشیلا امجد ک، سی ڈی اے ڈاکٹر عبدالرحمٰن،اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی محمد عثمان کو بھی معطل کرکے محکمانہ کارروائی کی ہدایت کی ۔
پمز نرسری آتشزدگی کے ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری کارروائی بھی شروع کرنے کا حکم تو دیا گیا ہے لیکن اب تک یہ واضح نہیں کہ فوجداری مقدمہ کن سیکشنز کے تحت بنایا جائے گا۔ سینیٹر سعدیہ عباسی ایڈووکیٹ نے کل سینیٹ میں ای ڈی عمران سکندر پر قتل کا مقدمہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ سعدیہ عباسی اس کمیٹی میں شامل تھیں جس نے ای دی عمران سکندر کے تقرر کا فیصلہ کیا تھا۔ سعدیہ عباسی نے بتایا کہ انہوں نے اور پیپلز پارٹی کے ایک رہنما نے اس تقرر کی سخت مخالفت کی تھی۔
آگ کیسے لگی؟ تحقیقات سے پتہ نہیں چلا، اب فورنزک ہو گا
گیارہ صفحات کی اس انکوائری رپورٹ میں آگ لگنے کی وجہ کے تعین کے لیے مزید فرانزک اور تکنیکی تحقیقات کا عندیہ دیا گیا ہے ۔
تحقیقاتی کمیٹی نے پمز میں ایمرجنسی فائر سیفٹی، انخلا اور اطلاع رسانی کے نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی ۔ فائر ایگزٹ بند یا رکاوٹوں کا شکار ہونے سے متعلق سی ای ایس کی رپورٹ7 کی مزید تصدیق کی جائے گی۔نرسری فائر، ایمرجنسی سروسز کو اطلاع دینے میں مبینہ تاخیر کی بھی تحقیقات جاری رکھنے کی ہدایت کی ۔
پمز میں جولائی کے فائر واقعے کے بعد بھی فائر سیفٹی کی خامیاں دور نہ کیے جانے پر سوالات اٹھ گئے۔جولائی کے واقعے میں فائر الارم، اسموک ڈیٹیکشن اور ایمرجنسی ڈرلز سے متعلق خامیوں کی نشاندہی ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پمز کا ای ڈی معطل، مقدمہ بنےگا، قوم غمگین ہے، ہر مجرم کو کیفر کردار تک پہنچاؤں گا، وزیراعظم کااعلان






