24

250 بارڈر پر پاکستانی مسافروں کی مبینہ خواری، وطن واپسی بھی بن گئی آزمائش

گوادر: بارڈر پِلر 250 پر پاکستانی مسافروں کی مبینہ خواری اور کئی کئی گھنٹوں تک انتظار کروانے کی شکایات سامنے آگئیں۔ وطن واپس آنے والے شہریوں کو مبینہ طور پر مختلف وجوہات بتا کر روکنے سے خواتین، بچے، بزرگ اور دیگر مسافر شدید اذیت میں مبتلا ہیں۔

مسافروں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہی ملک میں داخل ہونے کے لیے گھنٹوں سے بارڈر پر انتظار کر رہے ہیں، لیکن انہیں کلیئرنس کے نام پر مسلسل روکا جا رہا ہے۔ شدید گرمی، تھکن اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث مسافروں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

متاثرہ مسافروں نے الزام عائد کیا ہے کہ عام شہری گھنٹوں قطاروں میں خوار ہوتے رہتے ہیں، جبکہ مبینہ طور پر سفارش اور خصوصی رسائی رکھنے والے افراد کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اگر یہ صورتحال درست ہے تو یہ ایک عام پاکستانی شہری کے ساتھ کھلی ناانصافی اور امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔

مسافروں کا سوال ہے کہ آخر پاکستانی شہری کو اپنے ہی وطن واپس آنے کے لیے اتنی اذیت کیوں برداشت کرنا پڑ رہی ہے؟ کیا بارڈر پر کوئی ایسا مؤثر نظام موجود نہیں جو خواتین، بچوں اور بزرگوں کو گھنٹوں انتظار کی زحمت سے بچا سکے؟

متاثرہ شہریوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان، کمشنر مکران، جی او سی گوادر اور متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پِلر 250 پر مسافروں کو بلاامتیاز اور باعزت طریقے سے پاکستان میں داخلے کی سہولت دی جائے۔

مسافروں نے مطالبہ کیا ہے کہ بارڈر پر مبینہ امتیازی سلوک، غیرضروری تاخیر اور شہریوں کی خواری کا فوری سدباب کیا جائے، تاکہ وطن واپسی کسی پاکستانی کے لیے اذیت ناک سفر نہ بنے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں