کوئٹہ، بلوچستان ہائیکورٹ کے لارجر بینچ کے اہم عدالتی حکم کی روشنی میں صوبے بھر میں انتظامی اور عدالتی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، جن کے تحت وکالت کے لائسنسوں، پیشہ ورانہ تجربے اور نئے انرولمنٹ کیسز سے متعلق اہم اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
آئینی درخواست نمبر 471/2026 میں 3 اگست 2026 کو جاری ہونے والے عدالتی حکم پر عملدرآمد کے سلسلے میں بلوچستان ہائیکورٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ مذکورہ حکم تمام سیشن ڈویژنز، ٹرائل کورٹس اور خصوصی عدالتوں کو سرکولیٹ کیا جائے۔
عدالتی ہدایات کے مطابق مرکزی اور صوبائی ٹربیونلز میں تعینات جوڈیشل اور پریزائیڈنگ افسران کو بھی لارجر بینچ کے فیصلے سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ تمام متعلقہ عدالتی فورمز اس حکم کو مدنظر رکھتے ہوئے کارروائی یقینی بنائیں۔
عدالتی حکم میں اپریل 2026 کے بعد بلوچستان بار کونسل کی جانب سے جاری کیے گئے بعض وکالت کے لائسنسوں سے متعلق اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
ہائیکورٹ کی ہدایات کے مطابق 2 اپریل 2026 کے بعد جاری کیے گئے ایسے پریکٹس لائسنس، جو عدالتی حکم کے دائرہ کار میں غیر مؤثر قرار دیے گئے ہیں، قابلِ قبول نہیں ہوں گے۔
عدالتی ہدایات کے تحت ایسے غیر مؤثر لائسنسوں کی بنیاد پر حاصل کیا گیا پیشہ ورانہ تجربہ بھی شمار نہیں ہوگا، جبکہ ان لائسنسوں کی بنیاد پر جاری کیے گئے تجربہ سرٹیفکیٹس اور دیگر متعلقہ دستاویزات کو بھی قابلِ اعتبار نہیں سمجھا جائے گا۔
چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کی جانب سے متعلقہ اداروں اور عدالتی فورمز کو لارجر بینچ کے حکم پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مزید برآں، بلوچستان بار کونسل کے سیکرٹری کو ہدایت کی گئی ہے کہ نئے اندراج کے تمام زیرِ التوا کیسز 15 روز کے اندر متعلقہ انرولمنٹ کمیٹیوں کے سامنے پیش کیے جائیں۔
عدالتی حکم کے مطابق ایسے وکلاء کے کیسز بھی انرولمنٹ کمیٹیوں کے سامنے رکھے جائیں گے جن کے معاملات تاحال کمیٹیوں کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ہائیکورٹ نے ہدایت کی ہے کہ نئے اندراج کے تمام کیسز پر قانون اور مقررہ اصولوں کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے۔
لارجر بینچ کے حکم کے بعد بلوچستان میں وکالت کے لائسنسوں، پیشہ ورانہ تجربے اور انرولمنٹ کیسز سے متعلق یہ ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے، جس کے عدالتی اور قانونی معاملات پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔






