اسلام آباد: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے پر سینیٹر کامران مرتضیٰ نے ایوان کی توجہ مبذول کرا دی۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ پٹرول کی قیمت 367 روپے 75 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 392 روپے 67 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ 7 ستمبر سے اب تک پٹرول کی قیمت میں 21 روپے 88 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 14 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ ہو چکا ہے، جو تشویشناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل تیسرا اضافہ عوام کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن رہا ہے، جبکہ عوام پہلے ہی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ضروری اخراجات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے اخراجات بڑھ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ اور مختلف خدمات کی قیمتوں پر بھی اضافی دباؤ پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پٹرول پر لیوی کے علاوہ دیگر ڈیوٹیز اور ٹیکسز بھی وصول کر رہی ہے، اس لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے معاملے کو ایوان میں فوری زیر بحث لایا جائے۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے مطالبہ کیا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے تاکہ پہلے سے مہنگائی کے شکار عوام پر مزید بوجھ نہ پڑے۔






