گوادر۔ چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نور الحق بلوچ نے ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی معین الرحمٰن خان سے ان کے دفتر میں ملاقات کی، جس میں گوادر شہر کو پانی کی فراہمی کے ذرائع، موجودہ صورتحال اور مستقبل کے واٹر مینجمنٹ پلان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ملاقات کے دوران گوادر کے مرکزی آبی ذریعہ سوڈ ڈیم میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول تک پہنچنے کے پیش نظر آنے والے مہینوں میں پانی کی ممکنہ قلت سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نور الحق بلوچ گوادر میں وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے کوآرڈینیٹر برائے واٹر اینڈ پاور کرائسز کی ذمہ داریاں بھی انجام دے رہے ہیں۔
اس موقع پر چیف انجینئر جی ڈی اے حاجی سید محمد، پراجیکٹ ڈائریکٹر واٹر میرجان بلوچ اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔
اجلاس میں اس امر کا جائزہ لیا گیا کہ اگر آئندہ چند ماہ کے دوران بارشیں نہ ہوئیں تو گوادر میں ممکنہ پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جائیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گوادر کو پانی فراہم کرنے والے مرکزی ذریعہ سوڈ ڈیم میں پانی کی سطح انتہائی کم ہوچکی ہے اور اس وقت پمپنگ کے ذریعے پانی حاصل کیا جا رہا ہے۔
متبادل ذریعے کے طور پر شادی کور ڈیم سے پانی کی فراہمی میں اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ چائنیز واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹ کو مکمل استعدادِ کار کے ساتھ چلانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے ضروری فنڈز کی فراہمی کے سلسلے میں صوبائی حکومت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی کو بتایا گیا کہ اس وقت سوڈ ڈیم اور شادی کور ڈیم سے مجموعی طور پر تقریباً 30 سے 35 لاکھ گیلن پانی روزانہ حاصل کرکے گوادر شہر کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ الحمدللہ اس وقت شہر میں پانی کی فراہمی بلا تعطل جاری ہے اور پانی کے حوالے سے کوئی بڑا مسئلہ درپیش نہیں۔
تاہم اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ گزشتہ تقریباً پونے تین سال کے دوران گوادر میں خاطر خواہ بارشیں نہ ہونے کے باعث آبی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ رواں سال مارچ میں ہونے والی بارشوں سے سوڈ ڈیم میں کچھ پانی جمع ہوا تھا، جو اب تقریباً ختم ہونے کے قریب ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر مستقبل میں پانی کی ممکنہ قلت سے بچنے کے لیے مؤثر اور پیشگی واٹر مینجمنٹ حکمت عملی پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔






