کوئٹہ: ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان محکمہ صحت کی جانب سے 25 لیڈی میڈیکل آفیسرز کو مبینہ طور پر غلط، نامکمل اور متضاد انتظامی ریکارڈ کی بنیاد پر ملازمت سے برطرف کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے۔
یہ امر انتہائی افسوسناک اور محکمہ صحت کی انتظامی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ محکمہ اپنے ہی ڈاکٹرز کی پوسٹنگ، تعیناتی اور حاضری سے متعلق بنیادی ریکارڈ درست رکھنے میں ناکام رہا ہے، لیکن اپنی اس نااہلی اور ناقص نظام کا ملبہ ان ڈاکٹرز پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو روزِ اول سے اپنے باقاعدہ Place of Posting پر موجود رہ کر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں پوری ایمانداری سے انجام دے رہے ہیں۔
اگر کسی ڈاکٹر کو باقاعدہ طور پر ایک مقام پر تعینات کیا گیا ہو، ڈاکٹر مسلسل اسی مقام پر اپنی خدمات سرانجام دے رہا ہو، اور بعد ازاں محکمہ کے ناقص ریکارڈ، انتظامی تضاد یا ڈیٹا کی غلطی کی بنیاد پر اسے کسی دوسرے دفتر سے غیر حاضر قرار دے کر ملازمت سے برطرف کر دیا جائے، تو یہ ڈاکٹر کی غفلت نہیں بلکہ محکمہ صحت کے انتظامی نظام کی سنگین ناکامی اور نااہلی ہے۔
محکمہ صحت کو یہ جواب دینا ہوگا کہ اگر اس کے پاس اپنے ہی ملازمین کی درست پوسٹنگ اور تعیناتی کا ریکارڈ موجود نہیں تو اس انتظامی غفلت کی سزا ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز کو کیوں دی جا رہی ہے؟
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان واضح اور دوٹوک الفاظ میں اعلان کرتی ہے کہ ڈاکٹروں کے ساتھ اس قسم کی ناانصافی، انتقامی کارروائی یا انتظامی بے ضابطگی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ محکمہ صحت اپنی ریکارڈ کی غلطیوں کو چھپانے کے لیے ڈاکٹرز کے مستقبل اور روزگار سے کھیلنے سے باز رہے۔
یہ بھی واضح کیا جاتا ہے کہ محکمہ صحت میں موجود چند عناصر حکومت کے ساتھ ہونے والی حالیہ مذاکرات کو ناکام کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ آپنی نااہلی کو چھپانے کیلئے ڈاکٹروں کے خلاف انتقامی کاروائیوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات کو کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کسی بھی فرد یا ادارے کو ڈاکٹروں کے خلاف غیر منصفانہ، امتیازی یا منظم کارروائیوں کو پروان چڑھانے کی اجازت نہیں دے گی۔ ڈاکٹروں کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور ہر غیر قانونی و غیر منصفانہ اقدام کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی جائے گی۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان اپنے تمام ڈاکٹرز کے بنیادی، پیشہ ورانہ اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر بھرپور جدوجہد جاری رکھے گی۔
ہم واضح کرتے ہیں کہ ایک ایک ڈاکٹر کے حق کے حصول تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ ڈاکٹروں کے ساتھ ہونے والی کسی بھی ناانصافی پر خاموش نہیں بیٹھیں گے اور ہر سطح پر بھرپور مزاحمت کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔






