
(24نیوز) پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات تک یہیں موجود رہیں گے اور بھرپور انتخابی مہم چلائیں گے، میں نے صرف انتخابی مہم کے لیے نہیں، بلکہ آزاد جموں و کشمیر کے موجودہ حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہاں آنے کا فیصلہ کیا۔
مظفرآباد میں پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی ہر دور میں کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔
انہوں نے احتجاج کرنے والوں سے اپیل کی کہ 30 روزہ احتجاج کے بعد اب مذاکرات کا راستہ اختیار کریں کیونکہ حقوق انتہاپسندی سے نہیں بلکہ نظام کے اندر رہ کر حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے انتخابی بائیکاٹ کی سیاست کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کی امیدیں پوری نہ ہوئیں تو انتشاری قوتیں فائدہ اٹھائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ نے کہا کہ میرا مقصد نہ صرف اپنی انتخابی مہم کی قیادت کرنا، پارٹی کی مقامی قیادت اور امیدواروں کا حوصلہ بڑھانا ہے، بلکہ پوری دنیا کو یہ پیغام دینا بھی ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں، خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی، کسی بھی مشکل گھڑی میں کشمیر کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑتیں۔
یہ بھی پڑھیں:مودی اور آر ایس ایس کی رام مندر فراڈ پر خاموشی کے بعد اتراکھنڈ مندر میں بھی کرپشن کا انکشاف
بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی بنیاد پاکستان کے مسائل سے بھی پہلے مسئلۂ کشمیر پر رکھی گئی تھی، گزشتہ تین نسلوں سے ہم آزاد جموں و کشمیر کے عوام کی آواز ان پہاڑوں کے درمیان ہی نہیں، بلکہ پاکستان کے چاروں صوبوں اور عالمی سطح پر بھی بھرپور انداز میں بلند کرتے آئے ہیں، اور انشاء اللہ یہ جدوجہد آئندہ بھی جاری رہے گی۔
انہوں نے قومی اسمبلی میں آزاد جموں و کشمیر کو عبوری نمائندگی دینے، این ایف سی میں بھی خطے کی نمائندگی شامل کرنے اور انتخابات کے بعد کشمیر سے متعلق تمام اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل آئینی فورم کے قیام کی تجویز بھی دی۔






