سرداری نظام کے خاتمے کی قرارداد ناقابلِ فہم، متبادل نظام کے بغیر تبدیلی مسائل بڑھائے گی، نواب محمد خان شاہوانی
کوئٹہ: نواب محمد خان شاہوانی اور سردار کمال خان بنگلزئی سمیت دیگر قبائلی سرداروں نے بلوچستان اسمبلی میں سرداری اور نوابی نظام کے خاتمے سے متعلق قرارداد پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدیوں پرانے قبائلی نظام کو ختم کرنے سے پہلے اس کے متبادل پر غور کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرداری نظام محض ایک عہدہ نہیں بلکہ قبائلی ڈھانچے اور روایات کا حصہ ہے، جس کے ذریعے تنازعات حل کرنے اور لوگوں کی جانیں بچانے میں کردار ادا کیا جاتا رہا ہے۔
کوئٹہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواب محمد خان شاہوانی نے کہا کہ سرداری اور نوابی نظام کے خاتمے کے حوالے سے قرارداد ان کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان کے مطابق یہ نظام سینکڑوں سال پرانا ہے اور مختلف قبائل کے اپنے مخصوص ڈھانچے اور روایات ہیں۔ سردار قوم کا سربراہ ہوتا ہے اور یہ نظام نسل در نسل چلا آ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی سرداروں نے فریقین کو لڑائی جھگڑوں سے بچانے، تنازعات حل کرنے اور انسانی جانیں محفوظ بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام سردار ظالم نہیں ہوتے اور اگر کوئی فرد ذاتی طور پر غلطی کرتا ہے تو اس کی بنیاد پر پورے نظام یا برادری کو غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔
نواب محمد خان شاہوانی نے کہا کہ کسی نظام کو چلانے والے افراد غلط ہو سکتے ہیں، لیکن بغیر ثبوت پورے نظام کو خراب قرار دینا مناسب نہیں۔ مولوی صاحبان ہمارے لیے قابل احترام ہیں، تاہم کسی ایک فرد کے عمل کی بنیاد پر سب کو غلط نہیں کہا جا سکتا۔ ذاتی پسند ناپسند کو سرداری نظام کے کھاتے میں ڈالنا بھی درست نہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر سرداری نظام کے خاتمے کی بات کی جا رہی ہے تو کیا مستقبل میں بلوچی اور براہوئی زبانوں پر بھی پابندی لگائی جائے گی؟ ان کا کہنا تھا کہ جس شخص نے غلط قدم اٹھایا ہے، کارروائی بھی اسی کے خلاف ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی روایات کے مطابق سردار لوگوں کی زندگیوں کے تحفظ اور دوسروں کی عزت و احترام کو اہمیت دیتا ہے، جبکہ فیصلے باہمی رضامندی سے کیے جاتے ہیں۔
نواب محمد خان شاہوانی نے کہا کہ وہ اسمبلی کی قرارداد سے پریشان نہیں بلکہ قبائلی نظام کی حقیقت اور اس کے کردار کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول، قبائلی سردار انسانی خدمت کو اپنا فرض سمجھتے ہیں اور ان کے فیصلوں کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔ انہوں نے سرداری نظام کے خاتمے کی تجویز کو کم عقلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بلوچستان کے مسائل کا حل چاہتے ہیں اور قبائلی نظام کو محض ریاستی رٹ کے لیے نہیں چلا رہے۔
انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں بیٹھے ہوئے افراد بھی کسی نہ کسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ نواب کا خطاب انگریزوں کی جانب سے دیا گیا تھا، جبکہ قبائلی سرداری کا اپنا تاریخی اور روایتی پس منظر ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سردار کمال خان بنگلزئی نے کہا کہ سرداری نظام کے خاتمے سے متعلق اسمبلی کی قرارداد پر وہ پریشان نہیں، بلکہ اس نظام کے طریقۂ کار اور کردار کو واضح کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرداری نظام ایک باقاعدہ ضابطے کا نام ہے، یہ یک طرفہ نظام نہیں اور اسے لوگوں کی فطرت اور قبائلی معاشرتی ضروریات کے مطابق تشکیل دیا گیا ہے۔
سردار کمال خان بنگلزئی نے سوال کیا کہ اگر سرداری نظام ختم کرنا مقصود ہے تو اس کا متبادل کیا ہوگا؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس نظام کو ختم کرنا ہے تو پہلے عدالتی نظام کو بہتر بنایا جائے اور لوگوں کو بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے بلوچستان میں امن و امان کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حالات سب کے سامنے ہیں اور یہ سوال اہم ہے کہ آیا لوگ آج محفوظ طریقے سے سڑک کے ذریعے سفر کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نظام ختم کرنے کے بجائے امن و امان اور انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر توجہ دی جانی چاہیے۔
سردار کمال خان بنگلزئی نے توقع ظاہر کی کہ اسمبلی میں سرداری نظام کے خاتمے سے متعلق قرارداد منظور نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ قبائل ملک اور اس کے پرچم کے خلاف نہیں بلکہ ملک کی سرحدوں کے محافظ ہیں۔






