افغانستان سے 600 ٹن سے زیادہ کاٹن بزریعہ ریل ترکی کیلئے روانہ
آج کا افغانستان صرف ریلوے سے جڑا ہی نہیں بلکہ عالمی تجارتی شاہراہوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں افغانستان سے کپاس (روئی) اور خشک میوہ جات خربوزے سے بھرا ایک بڑا تجارتی ریل ٹرک روانہ ہوا، جو ایران کے ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے سیدھا ترکی تک سامان پہنچا رہا ہے۔
یہی کپاس کوئلہ خشک میوہ جات اور دیگر اشیاء مقامی لوگ گاڑیوں میں لاد کرکے افغانستان باڈر چمن سے ایک کلو میٹر اندر افغانستان سے لوڈ کرتے اور باڈر کراس کرکے چمن میں کلیئرنگ کرتے پھر 3 دن سفر کرکے فیصل آباد اور گجرانوالہ اور ملتان کے ملوں میں خالی کرتے تھے جس سے ہزاروں خاندانوں کی روزئ روٹی لگی تھی اور پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات تھے۔
لیکن بات صرف ترکی تک محدود نہیں ہے
ایران کے ساتھ کنیکٹیوٹی ریلوے کے ذریعے اب افغانی مال کی رسائی مشرق وسطیٰ اور یورپ تک ہو رہی ہے
وسطی ایشیا اور چین کا منصوبہ ترکمانستان، تاجکستان اور چین کو ملانے والے تاریخی ریلوے منصوبے اور اسٹیشنز پر بھی تیزی سے کام جاری و سار ہے
جس ملک کے بارے میں سوچا جاتا تھا کہ وہ زمینی بندش (Landlocked) کا شکار ہے، آج وہی افغانستان وسطی ایشیا اور جنوب ایشیا کو یورپ سے جوڑنے والا سب سے بڑا تجارتی پل بن چکا ہے
ترقی کسی کی جاگیر نہیں ہوتی نیت حکمت عملی اور مسلسل محنت ہو تو ریگزار بھی خوشحالی کے راستے بن جاتے ہیں۔ افغانستان کا یہ معاشی و تجارتی سفر واقعی ناقابلِ تصور اور شاندار ہے
انصاف اولین چیز ہے جو افغانستان کی حکومت نے اپنایا ہوا ہے اور اس کے بعد محنت اور خلوص کے ساتھ خدمت اس کا صلہ اللّٰه ضرور دیتا ہے اور وہ دن دور نہیں جب افغانستان خطے میں ایک بڑی معیشت اور طاقت بن کر ابھرے گا
افغانستان میں رشوت کی سطح نہ ہونے کے برابر (زیرو) ہے وہاں نہ CSS کے شاہانہ افسران ہیں اور نہ ہی FBR جیسا نظام وہاں کے جج 30 30 لاکھ تنخواہیں نہیں لیتے اور نہ حکمران 12 ارب کے جہازوں میں گھومتے ہیں وہاں کی اعلیٰ افسر شاہی کے 24 ہزار افسران کے پاس دوہری شہریت بھی نہیں ہے
11






