حسن پیر ساکران میں پیپلز پارٹی کا گرینڈ شمولیتی جلسہ، سینکڑوں معززین کی میر علی حسن زہری کی قیادت میں شمولیت
حب ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے زیر اہتمام حسن پیر ساکران میں گرینڈ شمولیتی جلسے کا انعقاد کیا گیا، جس میں سینکڑوں معززین نے صدر مملکت آصف علی زرداری کے ترجمان برائے بلوچستان اور سابق صوبائی وزیر میر علی حسن زہری کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے میر علی حسن زہری نے کہا کہ ایف ڈبلیو او کے کام کو سراہتے ہیں میر علی حسن زہری نے کہا کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ کی تعمیر سمیت مختلف منصوبوں میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ تعمیراتی کاموں کے دوران اہلکاروں کی شہادتیں بھی ہو رہی ہیں، اس لیے ادارے کی کارکردگی اور قربانیوں کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایف ڈبلیو او نے مختلف منصوبوں میں معیاری کام کیا ہے اور مند کے علاقے کی سڑک سمیت دیگر منصوبوں میں بھی اس کی کارکردگی کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق تعمیراتی کاموں کے دوران پیش آنے والی مشکلات کے باوجود ادارے کی خدمات کو سراہنا چاہیے۔
ساکران اور حب کو کئی دہائیوں تک نظر انداز کیا گیا، تاہم اب علاقے میں تعلیم، سڑکوں، بنیادی سہولیات اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے اور آنے والے وقت میں حب کی ترقی کا منظرنامہ تبدیل ہوگا۔
میر علی حسن زہری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی عوامی خدمت اور ترقی پر یقین رکھتی ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے بلوچستان کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے جو وعدے کیے تھے، ان پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ساکران سمیت پورے ضلع حب میں ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھایا جا رہا ہے اور مزید منصوبے بھی متعارف کرائے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ علاقے میں 120 اسکولوں کی مرمت کی گئی ہے، ساکران میں کیڈٹ کالج کی تعمیر جاری ہے جبکہ 26 نئے اسکول تعمیر کرنے کے منصوبے بھی آگے بڑھائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں سولر سسٹم کی فراہمی اور دیگر سہولیات کی بہتری پر بھی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ علاقے کے بچوں اور بچیوں کو معیاری تعلیم کے بہتر مواقع میسر آ سکیں۔
میر علی حسن زہری نے کہا کہ ضلع حب میں سڑکوں کا جال بچھایا جا رہا ہے اور مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد حب ایک ماڈل ضلع کے طور پر سامنے آئے گا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران شہریوں کو وقتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، تاہم منصوبوں کی تکمیل کے بعد عوام کو بہتر سفری سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کے فوائد حاصل ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے حوالے سے کیے گئے اعلان کے تناظر میں بھی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان اقدامات سے بلوچستان میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور عوام کے لیے خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی۔
حب میں پانی کی قلت کے حوالے سے میر علی حسن زہری نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں حب ڈیم کا دورہ کرکے پانی کی فراہمی اور ترسیل کی صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ بارشوں کی کمی کے باعث پانی کی دستیابی اور ترسیل میں مشکلات کا سامنا ہے، تاہم حب کے عوام کو ان کے حصے کا پانی فراہم کرنے اور فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے مسئلے کے حل کے لیے متعلقہ حکام سے رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔
میر علی حسن زہری نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ضلع حب میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے کوششیں جاری رہیں گی اور علاقے میں مزید منصوبے بھی لائے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساکران اور حب کے عوام کو تعلیم، روزگار، پانی، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی عوامی مسائل کے حل اور علاقے کی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔






