کوئٹہ: ممتاز بلوچی شاعر اور دانشور سید ظہور شاہ ہاشمی کی زندگی، ادبی خدمات اور ان کی یاد میں منعقدہ تقریبات کے حوالے سے ایک خصوصی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔یہ تقریب ’بلوچی لبزانکی دیوان اور ڈائریکٹوریٹ کلچر اینڈ ٹوریزم بلوچستان‘ کے زیر اہتمام منعقد کی گئی۔ بلوچی لبزانکی دیوان کے چیئرمین یار جان بادینی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور تمام معزز مہمانوں اور شرکاء کو خوش آمدید کہا۔انہوں نے سید ظہور شاہ ہاشمی کی تصانیف کے مطالعے اور ان سے استفادہ کرنے کے ذریعے ان کے فلسفے کو زندہ رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔سابق وزیراعلیٰ اور تقریب کے مہمانِ خصوصی، ڈاکٹر مالک بلوچ نے سید ظہور شاہ ہاشمی کو شاندار خراجِ تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ ہاشمی بلوچی زبان کے ایک ایسے ستون تھے جنہوں نے بلوچی شاعری کو بلندیوں تک پہنچایا اور اپنی پوری زندگی بلوچی زبان کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری برائے توانائی میر اصغر بلوچ نے ہاشمی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں “بلوچی زبان کا شیکسپیئر” قرار دیا۔انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ہاشمی کے فکری ورثے اور فلسفے کو اپنائیں اور اسے فروغ دیں۔ ڈاکٹر عبدالخالق داد نے سیمینار میں شرکت کرنے پر تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔علمی نشست کے دوران، متعدد دانشوروں اور مصنفین نے سید ظہور شاہ ہاشمی کے ادبی کام کے مختلف پہلوؤں پر مبنی تحقیقی مقالے پیش کیے۔پروگرام کے دوسرے حصے میں ایک کثیر لسانی مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، جس میں بلوچی، براہوئی، پشتو اور فارسی زبانوں کے ممتاز شعراء نے اپنے کلام سے حاضرین کو محظوظ کیا۔ تقریب کے اختتام پر، سید ظہور شاہ اکیڈمی کی جانب سے میر اصغر بلوچ اور دیگر معززین نے مہمانوں اور شرکاء میں یادگاری تحائف اور کتابیں (جن میں ’فکرِ نو‘ کی مطبوعات بھی شامل تھیں) تقسیم کیں۔
9






