
(ویب ڈیسک)لاہور جنرل ہسپتال میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ہیلتھ ویژن کی روشنی میں ہیپاٹائٹس سے بچاؤ کے متعلق آگاہی واک کاانعقادکیاگیا۔
واک میں پروفیسر ڈاکٹر غیاث النبی طیب، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین، ڈاکٹر غیاث الحسن، ڈاکٹر شفقت رسول، ڈاکٹر وقاص شبیر، ڈاکٹر عبدالعزیز، ڈاکٹر مکرم باجوہ اور شعبہ گیسٹرو انٹرالوجی کے ماہرین سمیت بڑی تعداد میں ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل سٹاف اور نرسز نے شرکت کی جن کے ہاتھوں میں پلے کارڈز درج نعرے نمایاں تھے۔
پرنسپل امیرالدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق افضل نےواک کی قیادت کرتے ہوئے کہاکہ ہیپاٹائٹس جیسے خاموش اور موذی مرض سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ بروقت سکریننگ اور ابتدائی تشخیص ہے، میڈیا، سماجی تنظیموں، طبی اداروں اور عوام کو مل کر اس مرض کے خلاف شعور اجاگر کرنا ہوگا تاکہ بروقت علاج سے ہزاروں جانیں بچائی جا سکیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے صحت کے ویژن کے تحت جنرل ہسپتال میں مریضوں کو معیاری طبی اور تشخیصی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جہاں ہر روز ہیپاٹائٹس کے مریضوں کا چیک اپ، لیبارٹری ٹیسٹ، مفت ادویات اور مکمل علاج ممکن بنایا جا رہا ہے، پی جی ایم آئی اور ایل جی ایچ اس مشن کو جاری رکھیں گے تاکہ پنجاب کو ہیپاٹائٹس سے پاک صوبہ بنایا جا سکے۔
اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر غیاث النبی طیب نے ہیپاٹائٹس بی اور سی کو ”خاموش قاتل“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی مراحل میں علامات ظاہر نہ ہونے کے باعث ہر صحت مند فرد کو باقاعدگی سے سکریننگ کرانی چاہیے کیونکہ یہ مرض غیر محفوظ خون، استعمال شدہ سرنجوں اور غیر سٹریل دانتوں کے آلات سے تیزی سے پھیلتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مریضوں کی تعداد تقریباً ایک کروڑ کے لگ بھگ ہے اور عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق ہر سال ہزاروں افراد جگر کے کینسر یا جگر کے فیل ہونے سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، مرض کی عام علامات میں شدید تھکاوٹ، جسمانی کمزوری، یرقان (جلد اور آنکھوں کا پیلا ہونا)، متلی، قے، بھوک میں کمی، پیٹ کے دائیں جانب درد اور پیشاب کا رنگ گہرا ہونا شامل ہیں۔
ماہرین نے بچاؤ کے لیے ہر چھ ماہ بعد سکریننگ، ہیپاٹائٹس بی ویکسین کی تینوں خوراکیں مکمل کرنے، ایک بار استعمال ہونے والی سرنج، ٹیسٹ شدہ خون کا استعمال اور ذاتی چیزیں (استرے، ٹوتھ برش، نیل کٹر) شیئر نہ کرنے پر زور دیا، جبکہ ختنے اور دانتوں کا علاج صرف مستند مراکز سے کرانا چاہیے جبکہ بیوٹی سیلونز کے معیار پر بھی جامع مانیٹرنگ ناگزیر ہے۔
ایم ایس پروفیسر ڈاکٹر فریاد حسین نے بتایا کہ جنرل ہسپتال میں ہیپاٹائٹس کلینک مکمل طور پر فعال ہے جہاں مریضوں کو تمام ٹیسٹ اور علاج بلا معاوضہ فراہم کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوب نے اہم فیچر متعارف کرا دیا
پروگرام کے اختتام پر ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر غیاث الحسن نے منتظمین، شرکاء اور میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوامی آگاہی ہی اس بیماری کے خلاف سب سے بڑی جنگ ہے اور پی جی ایم آئی و لاہور جنرل ہسپتال پنجاب کو ہیپاٹائٹس سے پاک بنانے کے لیے ایسی مہمات آئندہ بھی جاری رکھے گا۔






