
(24نیوز)شازیہ مری کی مبینہ جعلی ڈگری کیس میں سندھ ہائیکورٹ نے 13 سال بعد نااہلی کی درخواست مسترد کردی۔
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری کی مبینہ جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہلی کی درخواست پر 13 سال بعد فیصلہ سنا دیا، عدالت نے درخواست ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی۔
عدالت نے قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت کسی رکن پارلیمنٹ کو نااہل قرار دینے کا اختیار ہائیکورٹ کے پاس نہیں، کسی شخص کو نااہل قرار دینے کے لیے محض آئینی درخواست کافی نہیں ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ شازیہ مری نے ایک ہم نام طالبہ کی 2002 کی بی اے کی ڈگری استعمال کی اور انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت خود کو گریجویٹ ظاہر کیا، شازیہ مری نے 2002، 2008 اور 2013 کے انتخابات میں بھی خود کو گریجویٹ ظاہر کیا۔
درخواست گزار نے جعلی ڈگری استعمال کرنے پر شازیہ مری کو نااہل قرار دینے کی استدعا کی تھی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ اسی نوعیت کا اعتراض 2018 کے انتخابات میں الیکشن ٹریبونل کے سامنے بھی اٹھایا جاچکا ہے، الیکشن کمیشن نے 2022 میں ڈگری سے متعلق اعتراض مسترد کیا تھا، جبکہ الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر اپیل 2023 میں واپس لینے پر خارج ہوگئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم کی زیرِ صدارت اہم اجلاس، کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کے3 سالہ تھرڈ پارٹی آڈٹ کی ہدایت
شازیہ مری کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈگری کا معاملہ الیکشن کمیشن کے سامنے مکمل شواہد کے ساتھ زیر بحث آچکا ہے اور الیکشن کمیشن شازیہ مری کی ڈگری سے متعلق درخواست پہلے ہی مسترد کرچکا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ آئینی عدالت کا دائرہ اختیار نااہلی پیدا کرنا نہیں بلکہ عہدے دار کی اہلیت جانچنا ہے۔ آئین کے تحت کسی شخص کو صادق و امین قرار دینے کا اختیار ٹریبونلز کو حاصل نہیں۔
سندھ ہائیکورٹ نے مزید قرار دیا کہ ہر شخص کو آئین میں بیان کردہ اوصاف کا حامل تصور کیا جائے گا، جب تک کسی مجاز عدالت کی جانب سے اس کے برعکس فیصلہ موجود نہ ہو۔
عدالت نے سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے نمٹا دیا۔






