
(24 نیوز)ہنزہ کےعلاقے چپورسن میں آج صبح زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔
زلزلے سے چپورسن میں رمنجی کے قریب لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، متعدد مکانات کو نقصان پہنچا۔
زلزلے سے فی الحال کوئی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان کی وادی چپورسن کئی ماہ سے مسلسل خطرناک زلزلوں کی زد میں ہے۔
مقامی افراد اپنی زندگیوں کو محفوظ بنانے کیلئے ہجرت کرگئے۔
گلگت بلتستان کے ضلع ہنزہ کی آخری وادی پاک افغان سرحد واخان کوریڈور سے متصل یہ علاقہ 19 جنوری کو ایک شدید زلزلے کی زد میں آیا۔
مزید پڑھیں:ملتان ایئرپورٹ پر ایک روز میں 37 پروازیں، نیا ریکارڈ قائم
لوگوں نے گھروں سے بھاگ کرجان بچائی، گھر منہدم ہوگئے اور وادی کی طرف جانے والی واحد کچی سڑک بھی بھاری لینڈ سلائیڈنگ سے بند ہوگئی۔
محکمہ موسمیات اور جیالوجیکل سروے آف پاکستان نے اس علاقے میں جاری زلزلوں کو فالٹ لائن کا جز قرار دیا۔
ان زلزلوں کے جھٹکوں کی شدت کو پورے گلگت بلتستان میں محسوس کرنے کی تصدیق کی ۔
ان زلزلوں کے جھٹکوں کی شدت 5.4 سے 4.5 ریکارڈ کی گئی۔
یہاں فالٹ لائن کیساتھ گلیشیئرز کی زیر زمین حرکات کو بھی زلزلوں کا باعث قرار دیا گیا ۔
کئی ماہ سے مسلسل زلزلے سے متاثرہ علاقے کے مکین آج بھی وادی سے ہجرت کرکے دیگر علاقوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔






