4

​لاہور ہائیکورٹ کا ماحولیاتی تحفظ اور پانی کی بچت کیس پر تاریخ کا اہم ترین فیصلہ جاری

(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ نے ماحولیاتی تحفظ اور پانی کی بچت سے متعلق کیس پر 288 صفحات پر مشتمل اہم فیصلہ جاری کر دیا۔ جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے، شہری ہارون فاروق نے 2018 میں ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔

فیصلے کے مطابق عدالتی اقدامات کی بدولت لاہور میں 5 سال سے زیرِ زمین پانی کا لیول مستحکم ہے اور مزید کمی رک گئی ہے،لاہور کے 563 سروس اسٹیشنز پر واٹر ری سائیکلنگ پلانٹس فعال کیے گئے، جس سے فی گاڑی 280 لیٹر پانی کی بچت ہوئی۔

فیصلے میں 10 مرلہ اور ایک کنال سے بڑے مکانات میں ’گرے واٹر ری سائیکلنگ پلانٹ‘ لگانا لازمی قرار دیا گیا ہے، پنجاب بھر میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے بغیر تجارتی عمارت کا نقشہ منظور نہیں ہوگا۔

روئل پام اور لاہور جمخانہ میں گولف کورسز کی آبیاری کے لیے زیرِ زمین پانی کا استعمال بند کر دیا گیا،داتا دربار سمیت پنجاب کی 194 مساجد میں وضو واٹر ری سائیکلنگ ٹینکس فعال کیے گئے ہیں، داتا دربار کے وضو ری سائیکلنگ پلانٹ سے روزانہ 70 ہزار گیلن وضو کا پانی پارکس کے لیے محفوظ کیا جاتا ہے۔

لاہور کینال کے 35 سال سے بند 19 نہری کھالے بحال کیے گئے ہیں اور اہم پارکس کو نہری پانی کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے، گورنر ہاؤس، ایچیسن، باغ جناح اور ماڈل ٹاؤن پارکس کی آبیاری اب نہری پانی سے ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:انصاف کے لیے آسمان کی طرف دیکھ رہا ہوں:شیخ رشید

فیصلے کے مطابق زیرِ زمین پانی نکالنے پر ’صارف ادا کرے‘ پالیسی کے تحت 2018 سے 3.35 ارب روپے سے زائد وصول کیے جا چکے ہیں، قذافی اسٹیڈیم میں 40 لاکھ گیلن صلاحیت کا شہر کا سب سے بڑا واٹر اسٹوریج ٹینک فعال کیا گیا ہے، جبکہ والٹن روڈ سی بی ڈی پنجاب میں 50 لاکھ گیلن بارش کا پانی محفوظ کرنے کی جھیل قائم کی گئی ہے۔

الحمرا، شیرانوالہ گیٹ اور لارنس روڈ پر ملین گیلن کے رین واٹر ہارویسٹنگ ٹینکس مکمل کیے گئے ہیں، زیرِ زمین پانی کا لیول بڑھانے کے لیے پنجاب بھر میں 117 جدید واٹر ریچارج ویلز تیار کیے گئے ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ لاہور میں مقامی فضائی آلودگی کا 83 فیصد حصہ گاڑیوں کے زہریلے دھویں کا نتیجہ ہے، پنجاب بھر کے تمام اینٹوں کے بھٹوں کو جدید اور ماحول دوست ’زگ زیگ ٹیکنالوجی‘ پر منتقل کیا گیا ہے۔

پرانے ٹائروں سے زہریلا ایندھن بنانے والے تمام پلانٹس مسمار کر دیے گئے ہیں اور پنجاب میں آپریشن صفر ہے، لاہور اور گردونواح کے تمام صنعتی یونٹوں میں دھواں کنٹرول کرنے کے لیے ڈرائی اسکربرز نصب کیے گئے ہیں۔

پنجاب کی 101 بڑی صنعتوں اور 36 شوگر ملز میں ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس (ETP) فعال کیے گئے ہیں، زیرِ زمین پانی میں زہریلا پانی پھینکنے والے 400 سے زائد غیر قانونی سوکاج پیٹس بند کیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں:ایران کیساتھ جنگ،امریکی بحری بیڑے پر تعینات فوجی اہلکار ذہنی دباؤ کا شکار،خودکشی کی کوشش کرنے لگے

درختوں کے تحفظ اور پلاسٹک پر پابندی کے حوالے سے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پی ایچ اے نے درخت کاٹنے کے لیے تمام سرکاری محکموں پر قبل از وقت این او سی لینا لازمی قرار دیا ہے، کینال یلو لائن کے تحت لاہور نہر کے ساتھ 1400 قد آور درختوں کی کٹائی پر عدالت کی مستقل پابندی عائد ہے۔

نورپور تھل منصوبے پر عدالت کی مداخلت سے 11 ہزار درخت کٹنے سے بچ گئے، جبکہ 13 ہزار نئے درخت لگائے جائیں گے، پنجاب بھر میں عام پلاسٹک بیگز پر پابندی اور بائیو ڈیگریڈیبل تھیلوں کا استعمال یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔

واسا لاہور نے جوہر ٹاؤن میں پائلٹ پروجیکٹ کے تحت 13 ہزار اسمارٹ واٹر میٹرز نصب کیے ہیں، واسا نے واٹر میٹرز کی تنصیب کے لیے 500 ملین روپے کا بجٹ مختص کیا ہے۔ پنجاب کی تمام تجارتی اور گھریلو عمارتوں پر مرحلہ وار واٹر میٹرز لگائے جائیں گے۔

لاہور ہائیکورٹ نے انتظامیہ کو ماحولیاتی قوانین پر بلا امتیاز سخت عملدرآمد کی ہدایت بھی کی ہے، فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں مفاد عامہ کا طویل ترین فیصلہ قرار دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں