6

چینی لڑکے کو 4 گھنٹے تک کیڑوں کی آواز سننا مہنگا پڑگیا

(ویب ڈیسک)ایک چینی لڑکے کو 4 گھنٹے تک کیڑوں کے بھنبھنانے کی آواز سننا مہنگا پڑ گیا۔

زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ قدرتی آوازیں انسانی صحت کے لیے بے ضرر ہوتی ہیں، لیکن حال ہی میں پیش آنے والے واقعے نے ثابت کیا اس میں کچھ استثنائی صورتیں بھی ہو سکتی ہیں۔

چین کے صوبہ ژیجیانگ کے شہر ننگبو میں وانگ نامی 18 سالہ نوجوان جنگل میں کیمپنگ کے دوران کئی گھنٹوں تک سینکڑوں سیکاڈا کی مسلسل ٹک ٹک جیسی آوازیں سنتا رہا جس کے نتیجے میں اس کی سماعت متاثر ہوئی۔

وانگ نے محسوس کیا کہ دوپہر کے قریب سیکاڈا کی آوازیں نمایاں طور پر زیادہ بلند ہو گئی تھیں، لیکن وہ شام تک جنگل میں موجود رہا۔ شام کے وقت اسے کانوں میں گھن گرج اور کان بند ہونے یا بھرا بھرا محسوس ہونے کی شکایت ہونے لگی۔ جب سیکاڈا کی آوازیں آہستہ آہستہ خاموش ہونے لگیں تو اسے احساس ہوا کہ وہ نہ تو پرندوں کی چہچہاہٹ سن پا رہا ہے اور نہ ہی اپنے فون کی نوٹیفکیشن کی آوازیں۔

سماعت کھونے کے خوف کے باعث وہ فوراً ہسپتال پہنچا، جہاں فوری معائنے سے معلوم ہوا کہ اس کے دونوں کان سوجے ہوئے تھے۔ اسے دوا دی گئی اور کم از کم 14 دن تک تیز آوازوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی۔ خوش قسمتی سے دو ہفتوں کے بعد وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں:چینی بلٹ ٹرین نے تیزرفتاری  کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں