
(24 نیوز) فرانس کی آئینی کونسل نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے والے قانون کو روک دیا ہے۔
عدالت کے مطابق قانون میں عمر کی تصدیق کے طریقہ کار کے حوالے سے ضروری قانونی تحفظات واضح نہیں کیے گئے، جس سے آزادیٔ اظہار کے حق پر اثر پڑ سکتا ہے۔
فرانسیسی پارلیمنٹ نے گزشتہ ماہ اس قانون کی منظوری دی تھی، جس کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کو انسٹاگرام، ٹک ٹاک، فیس بک اور اسنیپ چیٹ سمیت بعض سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی سے روکنے کی تجویز دی گئی تھی۔ قومی اسمبلی میں یہ قانون 279 ووٹوں سے منظور ہوا، جبکہ 81 ارکان نے مخالفت کی۔
آئینی کونسل کے فیصلے کے بعد صدر ایمانوئل میکرون نے حکومت کو قانون میں ضروری ترامیم کرنے کی ہدایت کی ہے، فرانسیسی حکومت کا مقصد ترمیم شدہ قانون کو دوبارہ پیش کرکے 2027 کے صدارتی انتخابات سے پہلے نافذ کرنا ہے۔
فرانس میں یہ اقدام بچوں کو سوشل میڈیا کے ممکنہ منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کی کوشش کا حصہ تھا، تاہم عدالت کے فیصلے نے بچوں کے تحفظ اور آزادیٔ اظہار کے درمیان توازن کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :حکومت سے پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے مذاکرات بے نتیجہ ختم






