9

سعودیہ پاکستان ترکیہ کا نیا پاور بلاک ہتھیاروں کے اعدود شمار سے دنیا حیران رہ گئی

ایک پر حملہ تینوں کے خلاف حملہ، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان میں دفاعی معاہدہ تو ہو گیا  لیکن دفاعی معاہدے کے بعد اگر تینوں برادر ممالک کی مجموعی عسکری طاقت کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو تصویر خاصی بڑی نظر آتی ہے ، 2026 کے گلوبل فائر پاور کے اعداد و شمار کے مطابق، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 14 لاکھ فعال فوجی، 3400 سے زیادہ لڑاکا اور فوجی طیارے، تقریباً 6,000 ٹینک، 179000 سے زیادہ بکتر بند گاڑیاں اور 340 سے زائد بحری اثاثے موجود ہیں۔

لیکن یہ صرف اعداد و شمار ہیں ، اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ تینوں ممالک کی صلاحیتیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور یہی چیز اس ممکنہ اتحاد کو دلچسپ بناتی ہے اگر تینوں ممالک کی مشترکہ فوج کی بات کریں تو 14 لاکھ میں سب سے بڑا حصہ پاکستان کا ہے جس کے پاس تقریباً 6 لاکھ 60 ہزار فعال فوجی ہیں ۔

 اس کے بعد ترکیہ آتا ہے جس کے پاس تقریباً 4 لاکھ 81 ہزار فعال فوجہ اہلکار موجود ہیں جبکہ سعودی عرب کے پاس تقریباً 2 لاکھ 47 ہزار فعال فوجی موجود ہیں ،،، اس کے علاوہ تینوں ممالک کے پاس ریزرو اور نیم فوجی دستوں کی بھی بڑی تعداد موجود ہے لیکن جدید جنگ صرف فوجیوں کی تعداد سے نہیں جیتی جاتی ،  اصل سوال یہ ہے کہ ان فوجیوں کو کتنی فضائی، زمینی اور بحری طاقت حاصل ہے؟

اگر فضائی طاقت کی بات کریں تو تینوں ممالک کے پاس تقریبا 3415 فوجی طیارے موجود ہیں ، جن میں جنگی طیارے، ہیلی کاپٹر، ٹرانسپورٹ طیارے اور تربیتی طیارے شامل ہیں ، اس میدان میں سب سے آگے پاکستان ہے، جس کے پاس تقریباً 1397 فوجی طیارے ہیں جن میں ایف 16، جے 10 سی اور جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارے موجود ہیں ، ترکیہ کے پاس تقریباً 1101 اور سعودی عرب کے پاس تقریباً 917 طیارے ہیں۔

 

لیکن صرف طیاروں کی تعداد دیکھنا کافی نہیں ، اصل طاقت اس بات میں ہے کہ ان طیاروں میں کتنے جدید جنگی جہاز ہیں ، ان کے اندر کس نوعیت کے میزائل نصب ہو سکتے ہیں ، ریڈار اور الیکٹرانک وارفیئر کی صلاحیت کیا ہے اور انہیں کتنے مؤثر کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام سے جوڑا جا سکتا ہے۔
یہاں ترکیہ کی دفاعی صنعت خاص اہمیت اختیار کرتی ہے ، ترکیہ نے گزشتہ برسوں میں ڈرونز، میزائل، سینسرز، الیکٹرانک وارفیئر اور دیگر دفاعی ٹیکنالوجی میں نمایاں پیش رفت کی ہے ، پاکستان کے پاس بھی جے ایف 17 تھنڈر، جے 10 سی اور ایف 16 کی صورت میں ایک بڑی فضائی جنگی صلاحیت موجود ہے جو جدید میزائلوں سے لیس ہے  جبکہ سعودی عرب کے پاس جدید مغربی ساختہ جنگی طیاروں اور دیگر فضائی نظام کا ایک اہم ذخیرہ ہے ۔

یعنی تینوں ممالک کی فضائی طاقت ایک دوسرے کے لیے کئی حوالوں سے تکمیلی ہو سکتی ہے، فضائی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ تینوں ممالک اپنی فوجوں کی زمینی صلاحیتوں کے حوالے سے بھی خاص مقام رکھتے ہیں۔

تینوں ممالک کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 6046 ٹینک ہیں اور اس شعبے میں بھی پاکستان سب سے آگے ہے  جس کے پاس تقریباً 2677 ٹینک ہیں ،،، ترکیہ کے پاس تقریباً 2284 جبکہ سعودی عرب کے پاس تقریباً 1085 ٹینک ہیں  لیکن ٹینکوں کے علاوہ ان ممالک کے پاس 179000 سے زیادہ بکتر بند گاڑیاں بھی موجود ہیں۔

 اس کے ساتھ ہزاروں توپ خانے کے نظام اور متعدد ملٹی پل لانچ راکٹ سسٹمز بھی شامل ہیں ،،، یعنی اگر صرف زمینی جنگ کی بات کی جائے تو یہ تینوں ممالک مل کر ایک بہت بڑی روایتی زمینی فوجی طاقت بن سکتے ہیں، جدید جنگ میں ایک اور محاذ فیصلہ کن ہو سکتا ہے اور وہ ہے سمندری محاذ  اور اس میدان میں بھی تینوں ممالک کسی بھی بڑی طاقت سے پیچھے نہیں۔

تینوں ممالک کے بحری بیڑے میں مجموعی طور پر تقریباً 344 بحری اثاثے شامل ہیں  جس میں 32 فریگیٹس، 24 کارویٹس اور 22 آبدوزیں شامل ہیں ، بحری طاقت کے لحاظ سے ترکیہ سب سے آگے ہے ، اس کے پاس تقریباً 192 بحری اثاثے ہیں ، پاکستان تقریباً 120 بحری اثاثوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے  جبکہ سعودی عرب کے پاس تقریباً 32 بحری اثاثے ہیں  یہاں جغرافیہ انتہائی اہم ہو جاتا ہے۔

 سعودی عرب کی جغرافیائی پوزیشن اسے بحیرہ احمر، خلیج فارس اور اہم سمندری راستوں کے قریب رکھتی ہے ، پاکستان بحیرۂ عرب کے کنارے واقع ہے اور ترکیہ بحیرۂ روم، بحیرۂ اسود اور اہم سمندری راستوں کے قریب ایک انتہائی اہم جغرافیائی پوزیشن رکھتا ہے، اب بات کرتے ہیں اس چیز کی جو جدید جنگ میں تقریباً ہر صلاحیت کی بنیاد بنتی ہے اور وہ ہے پیسہ۔

تینوں ممالک کے 2026 کے دفاعی بجٹ کو ملا کر تقریباً 124.4 ارب ڈالرز بنتا ہے ، اس میں سب سے بڑا حصہ سعودی عرب کا ہے جس نے تقریبا 63.9 ارب ڈالرز دفاع کے لیے مختص کیے ہیں ، ترکیہ کا دفاعی بجٹ تقریباً 51.4 ارب ڈالر ہے جبکہ پاکستان  کا دفاعی بجٹ تقریبا 9.1 ارب ڈالر بتایا گیا ہے۔

تو ناظرین سعودی عرب کے پاس مالی وسائل ہیں ، ترکیہ کے پاس بڑھتی ہوئی دفاعی صنعت ہے  اور پاکستان کے پاس ایک بڑی فوج، وسیع آپریشنل تجربہ اور جوہری صلاحیت ہے ، اسی لیے بعض ماہرین کے مطابق ان تینوں ممالک کی اصل طاقت محض ان کے ہتھیاروں کی مجموعی تعداد نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو مکمل کرنے میں ہے۔

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں