4

پاک ایران تعلقات: تاریخ کے چراغ اور امن کی نئی راہ

پاکستان اور ایران کے تعلقات محض دو ہمسایہ ممالک کے سفارتی روابط نہیں، بلکہ تاریخ، تہذیب، زبان، مذہب اور مشترکہ ثقافتی ورثے سے جڑا ایک ایسا رشتہ ہیں جس کی بنیاد پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی مضبوط ہو گئی تھی۔ 1947ء میں ایران پاکستان کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بنا تو یہ اقدام محض سفارتی رسم نہیں تھا؛ یہ ایک ایسے تاریخی تعلق کا آغاز تھا جس نے آنے والی نسلوں کے لیے دوستی، تعاون اور باہمی احترام کی بنیاد فراہم کی۔

1950ء سے 1970ء کی دہائی تک پاک ایران تعلقات نے دفاع، تجارت اور علاقائی تعاون کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی۔ 1964ء میں پاکستان، ایران اور ترکی کا علاقائی تعاون برائے ترقی (RCD) اسی وژن کا مظہر تھا، جو بعد ازاں اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) کی صورت میں وسیع تر علاقائی تعاون کا ذریعہ بنا۔ 1965ء اور 1971ء کے مشکل ادوار میں ایران کی پاکستان کے لیے سیاسی اور عملی حمایت نے بھی دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید گہرا کیا۔

1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد خطے کی سیاست تبدیل ہوئی اور افغانستان، سرد جنگ اور علاقائی طاقتوں کی کشمکش نے دونوں ملکوں کے درمیان بعض اختلافات کو جنم دیا۔ بلوچستان کی سرحد پر سیکیورٹی، سرحد پار نقل و حرکت اور اسمگلنگ جیسے مسائل بھی سامنے آئے، مگر دونوں ممالک نے رابطے کا دروازہ کبھی بند نہیں کیا۔ یہی پاک ایران تعلقات کی سب سے بڑی طاقت ہے: اختلافات کے باوجود مکالمہ۔

اس رشتے کی اصل روح سرکاری معاہدوں سے کہیں آگے ہے۔ فارسی زبان نے برصغیر کی تہذیب، ادب اور فکر پر گہرے نقوش چھوڑے، جبکہ علامہ اقبال دونوں ممالک کے فکری رشتے کی روشن علامت ہیں۔ ایران میں اقبال سے عقیدت اس بات کا ثبوت ہے کہ بعض رشتے سرحدوں سے نہیں، تہذیبوں کی روح سے بنتے ہیں۔

آج مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی، جنگوں اور طاقت کی سیاست کی زد میں ہے۔ فلسطین کا المیہ، ایران سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بڑی طاقتوں کی باہمی صف بندی نے عالمی امن کو ایک نازک مرحلے پر پہنچا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کے لیے سب سے اہم امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات، علاقائی سلامتی اور اصولی خارجہ پالیسی کے درمیان متوازن راستہ اختیار کرے۔

پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کے لیے بھی یہ ایک غیر معمولی سفارتی امتحان ہے۔ ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کی حیثیت سے پاکستان کی اصل قوت صرف اس کی دفاعی صلاحیت نہیں بلکہ تحمل، تدبر، سفارتی بصیرت اور جنگ سے گریز کی صلاحیت بھی ہے۔ پاک ایران تعلقات کے تناظر میں یہی دانش مندی سرحدی امن، باہمی تجارت، انٹیلی جنس تعاون اور عوامی روابط کو مضبوط بنانے کا تقاضا کرتی ہے۔

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ طاقت کے بل پر قائم کیے گئے اتحاد دیرپا نہیں ہوتے، لیکن تہذیبی اور عوامی رشتے نسلوں تک زندہ رہتے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے درمیان بھی یہی رشتہ سب سے بڑا اثاثہ ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک ماضی کی دوستی کو مستقبل کی شراکت داری میں تبدیل کریں؛ پاک ایران سرحد کو تنازع کی لکیر نہیں بلکہ امن، تجارت، ثقافت اور خوشحالی کی راہداری بنائیں۔

کیونکہ خطے کو مزید جنگوں کی نہیں، ایسے مدبرانہ فیصلوں کی ضرورت ہے جو آنے والی نسلوں کو بارود نہیں، امن وراثت میں دیں۔

پاک ایران دوستی کا مستقبل شاید اسی ایک سوال کے جواب میں پوشیدہ ہے: کیا ہم تاریخ کے رشتوں کو جغرافیے کی سیاست پر غالب لا سکتے ہیں؟

وقت کا تقاضا ہے کہ جواب ہاں میں ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں