
( ویب ڈیسک ) ویٹی کن نے اپنی بجلی کی ضروریات قابلِ تجدید توانائی سے پوری کرنے کے لیے تقریباً 100 ملین یورو کی لاگت سے سولر اور زراعت پر مبنی ایک بڑے منصوبے کی تیاری شروع کردی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کے مطابق منصوبے میں ایگری وولٹائک نظام استعمال کیا جائے گا، جس کے تحت شمسی پینل زمین سے کئی میٹر بلندی پر نصب کیے جائیں گے اور ان کے نیچے فصلیں بھی اگائی جاسکیں گی۔ منصوبے کی متوقع پیداواری صلاحیت 80 سے 90 میگاواٹ ہوگی، جس کے باعث اسے اٹلی کے بڑے ایگری وولٹائک منصوبوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق منصوبے کی تعمیر اور انتظامی و اجازت نامے مکمل کرنے میں تقریباً 18 سے 24 ماہ لگ سکتے ہیں، جبکہ منصوبے سے متعلق تعمیراتی معاہدوں کے لیے ٹینڈرز آئندہ چند ہفتوں میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں:موسلادھار بارش سے پانی گھروں میں داخل،مزید بادل برسنے کو تیار ، الرٹ جاری
یہ منصوبہ روم کے شمال مغربی علاقے سانتا ماریا دی گالیریا میں ویٹی کن کی تقریباً 450 ہیکٹر اراضی پر قائم کیا جائے گا، جہاں 1950 کی دہائی سے ویٹی کن ریڈیو کی نشریاتی تنصیبات موجود ہیں۔ منصوبے کے تحت تقریباً 200 ہیکٹر رقبے پر شمسی پینلز نصب کیے جانے کی توقع ہے۔
منصوبے کا مقصد ویٹی کن ریڈیو کی نشریاتی تنصیبات کو بجلی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ویٹی کن سٹی کو توانائی کے معاملے میں خودکفیل بنانا ہے۔ ذرائع کے مطابق اضافی بجلی اٹلی کو فراہم کی جائے گی، جبکہ ویٹی کن سے منسلک بعض املاک، جن میں روم کا بمبینو جیزو اسپتال بھی شامل ہے، کو بھی اس توانائی سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
یہ منصوبہ سابق پوپ فرانسس کی ترجیحات میں شامل تھا اور موجودہ پوپ لیو چہاردہم نے بھی اس کی حمایت کی ہے۔ اٹلی اور ویٹی کن کے درمیان معاہدے کے تحت منصوبے کو خصوصی حیثیت بھی حاصل ہوگی۔
ویٹی کن دنیا کا سب سے چھوٹا ملک ہے، جس کا رقبہ تقریباً 108 ایکڑ اور آبادی 900 سے کم افراد پر مشتمل ہے۔ نئے منصوبے کے ذریعے ویٹی کن نہ صرف اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے بلکہ قابلِ تجدید توانائی کے استعمال میں بھی ایک نمایاں مثال قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔






