2

3 طوفان ایک ساتھ لاکھوں افراد متاثر ہونے کا خدشہ

(24 نیوز)بحرالکاہل کے خطے میں ایک غیر معمولی موسمی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، جہاں بیک وقت تین طاقتور طوفان سرگرم ہیں۔

 ماہرین نے چین، تائیوان اور جاپان کے مختلف علاقوں میں شدید بارش، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیے ہیں۔

جنوبی بحیرہ چین اور شمال مغربی بحرالکاہل میں موجود موسمی نظام کے باعث چین کے محکمہ موسمیات نے شدید بارشوں اور سمندری طوفانوں کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر لیول فور ہنگامی الرٹ جاری کردیا ہے۔

 حکام نے ساحلی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو محتاط رہنے اور سمندری سرگرمیوں سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

موجودہ موسمی نظام میں گینیری، نارا اور سوڈیل نامی تین طوفان شامل ہیں۔

 ماہرین کے مطابق سوڈیل کو خاص طور پر خطرناک سمجھا جارہا ہے کیونکہ اس کے راستے میں سمندر کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ ہے، جو اس کی شدت میں تیزی سے اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

 ماہرین نے اسے سپر ٹائیفون میں تبدیل ہونے کا بھی امکان ظاہر کیا ہے۔

مزید پڑھیں:سعودی شہر طائف میں موسلادھار بارش؛نشیبی علاقے زیرِ آب، ریڈ الرٹ جاری

میڈیارپورٹس کے مطابق گینیری طوفان  تائپے سے تقریباً 320 کلومیٹر دور موجود ہے، اس کے شمال مغربی سمت میں آگے بڑھنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب نارا طوفان چین کے جنوبی علاقوں کے لیے خطرہ بن گیا ہے،گوانگشی، ہینان اور گوانگ ڈونگ سمیت مختلف علاقوں میں شدید سے انتہائی شدید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق سوڈیل کے راستے میں سمندری درجہ حرارت معمول سے زیادہ ہونے کے باعث اس کی طاقت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

 امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ ریوکیو جزائر سے گزرنے کے بعد مشرقی بحیرہ چین کی جانب بڑھے گا۔

 اعداد و شمار کے مطابق رواں سال طوفانی سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

جنوری سے اب تک 20 طوفان بن چکے ہیں، جبکہ اس عرصے میں اوسطاً 13 سے 14 طوفان بنتے ہیں۔

 تینوں طوفانوں اور جنوب مغربی مانسون کے مشترکہ اثرات سے چین، تائیوان اور جاپان کے مختلف علاقوں میں شدید بارش، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

حکام نے شہریوں کو موسمی صورتحال پر نظر رکھنے، ساحلی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور فضائی و زمینی نقل و حمل میں ممکنہ رکاوٹوں کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں