8

جب پارلیمان طاقتور ہوگا تو ہم سب طاقتور ہوں گے، بلاول بھٹو زرداری

اسلام آباد

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمان میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ہمیں اس پارلیمان کو فعال بنانا ہے اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے فیصلے کروانے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے ہم سب کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا اور ہمارا مشترکہ مقصد پارلیمان کو مضبوط اور طاقتور بنانا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان کا اصل حسن اور اس کی حقیقی طاقت اس کے اندر جاری مکالمے، اختلافِ رائے کے احترام اور جمہوری رواداری میں پوشیدہ ہے، جہاں ہر رکن کو بلا خوف و خطر عوام کی آواز بننے کا مکمل اختیار حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس پارلیمان کو صرف قانون سازی کی حد تک محدود نہیں رکھنا بلکہ اسے عوامی مسائل کے حل اور پالیسی سازی کا ایک مؤثر مرکز بنانا ہے، جہاں ہر فیصلہ آئین کی روشنی میں، عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اور قومی اتفاقِ رائے سے کیا جائے، تاکہ اس ایوان سے نکلنے والا ہر فیصلہ پاکستان کے عوام کے لیے امید اور اعتماد کا پیغام بنے۔  چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ جب پارلیمان طاقتور ہوگا تو ہم سب طاقتور ہوں گے، اور ہماری یہ طاقت درحقیقت پاکستان کے عوام کی طاقت ہوگی۔ یہ ایوان پاکستان کی عوام کی امید اور ان کی خواہشوں کا ترجمان ہے. انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جمہوریت کا استحکام محض مضبوط اداروں کا پر نہیں بلکہ ایک مضبوط، بااختیار اور فعال پارلیمان سے وابستہ ہے، جہاں ہونے والا ہر فیصلہ عوامی امنگوں پر پورا اترے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس ایوان کو ذاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر عوام کی فلاح و بہبود، معاشی انصاف اور سماجی ترقی کے لیے مشترکہ جدوجہد کا مرکز بنانا ہوگا، کیونکہ جب یہ ایوان بولتا ہے تو درحقیقت پاکستان کی عوام کی آواز گونجتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل میں سب سے بڑی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی تمام آئینی اور پارلیمانی ذمہ داریوں کو پورا کرے، جس سے اس ایوان کو مزید طاقت اور وقار حاصل ہو سکتا ہے، لیکن اس ایوان کو فعال اور مؤثر بنانے کے لیے اپوزیشن کا جو کردار ہے، اس ذمہ داری کو اپوزیشن کو بھی نبھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بصورت وہ عناصر جو اس پارلیمان کو غیر فعال اور کمزور دیکھنا چاہتے ہیں، وہی اس صورتحال سے فائدہ اٹھائیں گے جبکہ پاکستان کے عوام اس کے ثمرات سے محروم رہ جائیں گے۔ اگر اپوزیشن کا فیصلہ یہی ہے کہ وہ پارلیمانی کمیٹیوں میں حصہ نہیں لینا چاہتے اور کسی بھی کمیٹی میں اپنی نمائندگی نہیں کرنا چاہتے، تو اس طرزِ عمل سے پارلیمان کمزور ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مؤثر قانون سازی کا تمام تر انحصار کمیٹیوں کی کارکردگی پر ہے۔ انہی کمیٹیوں میں قوانین کا جائزہ، متعلقہ اداروں سے مشاورت اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو سننے کا موقع ملتا ہے، جس سے معاشرے میں موجود خامیوں کو دور کر کے اسے عوامی توقعات کے مطابق بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان کے اراکین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے عوام، اپنے حلقہ انتخاب اور اپنی جماعت کی مؤثر نمائندگی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر قائد حزب اختلاف واقعی اس عزم میں سنجیدہ ہیں کہ پارلیمان کو فعال، مؤثر اور نتیجہ خیز بنایا جائے اور ہم سب اپنی اجتماعی ذمہ داری کے تحت اس کی فعالیت میں اپنا کردار ادا کریں، تو ان کو چاہیے کہ وہ عمران خان کی جانب سے قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی اور قائد حزب اختلاف سینیٹ آف پاکستان کو یہ زمہ داری دے کہ وہ آئینی پارلیمانی طاقت اور اختیار کو مؤثر انداز میں پیش کریں اور اپنے پارلیمانی بینچز کو واضح ہدایات جاری کریں کہ قومی مفاد اور جمہوری تسلسل کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کم از کم اہم ترین پارلیمانی کمیٹیوں میں اپنی بھرپور شرکت اور کردار کو یقینی بنائیں گے.چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان لوگوں نے جب پارلیمانی کمیٹیوں کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا، اس سے قبل اس پارلیمان میں الیکٹورل ریفارمز کمیٹی کے قیام کے حوالے سے سیشنز میں جو قرارداد منظور کروائی گئی تھی، جس میں اس پارلیمان نے باہمی اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیا تھا کہ انتخابی اصلاحات کے لیے ایک جامع کمیٹی تشکیل دی جائے گی، تو اس تناظر میں میں کم از کم الیکٹورل ریفارمز کمیٹی کی حد تک قائد حزب اختلاف کو اپنے آئینی اور پارلیمانی منصب کے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے اپنے نامزد اراکین کے نام اس کمیٹی کے لیے باقاعدہ طور پر بھجوائیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا جو بنیادی نکتہ اور مرکزی اعتراض ہے، جس کے تحت وہ یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ ان کے خلاف انتخابی عمل میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں، اگر وہ واقعی چاہتے ہیں کہ آئندہ منعقد ہونے والے عام انتخابات اور کسی بھی ضمنی انتخاب میں انتخابی نظام کی ان خامیوں اور مسائل کا مستقل اور مؤثر حل نکالا جائے، تو اس اصلاحی عمل کا باقاعدہ اور عملی آغاز الیکٹورل ریفارمز کمیٹی کے اجلاس سے ہو سکتا ہے، جو اس مقصد کے لیے ایک اہم پارلیمانی فورم ہے۔ انہوں نے پارلیمان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر قائد حزب اختلاف اس معاملے میں ذمہ دارانہ فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کو اس کمیٹی میں شمولیت اختیار کرنے کی ہدایت جاری کریں گے، تو یہ ایک مثبت اثرات کا آغاز ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے ہم اجتماعی کوششوں سے اس پارلیمان کو وہ آئینی طاقت، جمہوری وقار اور احترام واپس دلا سکتے ہیں جس کا یہ حقدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرا انتہائی اہم نکتہ یہ ہے کہ موجودہ عالمی اور علاقائی جیو پولیٹیکل تناظر کے اثرات کیا ہوں گے۔ اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت قومی سلامتی، معاشی استحکام اور بین الاقوامی جیو پولیٹیکل کے حوالے سے جن غیر معمولی پیش رفتوں کا سامنا ہے، اور آنے والے دنوں، ہفتوں اور مہینوں میں جن پیچیدہ چیلنجز اور مشکلات کا امکان ہے، اس تناظر میں یہ ناگزیر ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ، وزیر خارجہ، وزیر دفاع، وزیر داخلہ اور دیگر متعلقہ وزراء و حکام اس پارلیمان میں آ کر اراکین کو تفصیلی اور حقائق پر مبنی بریفنگ دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پارلیمان کو مکمل طور پر اعتماد میں لے کر آگاہ کیا جائے کہ پاکستان کو کن ممکنہ خطرات، معاشی دباؤ اور سفارتی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے اور آنے والے وقت میں پاکستان سمیت پورے خطے کو کن حساس حالات سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے، تاکہ یہ پارلیمان اپنی آئینی ذمہ داری کے مطابق قومی مفاد میں ایک مؤثر حکمت عملی کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ انہوں نے عالمی منظرنامے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر آنے والی تبدیلی، عالمی تجارتی نظام میں خلل اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث ترقی پذیر ممالک شدید دباؤ کا شکار ہیں اور پاکستان کی معیشت، توانائی کی ضروریات اور تجارتی مفادات براہ راست ان عالمی حرکیات سے جڑے ہوئے ہیں، جس کے پیش نظر ہمیں ایک قومی مفاد پر مبنی حکمت عملی کے تحت اپنے سفارتی رابطوں کو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ اس تناظر میں جہاں ہرمز سمیت کئی محاذوں پر پیچیدہ صورتحال اور مشکلات کا سامنا ہے، تو اس کے عالمی معیشت اور بالخصوص پاکستان کی معیشت پر کیا ممکنہ اثرات اور نتائج مرتب ہو سکتے ہیں، اس حوالے سے پارلیمان کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا جانا چاہیے۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ اسی طرح ایران تنازع کے تناظر میں جو حالیہ پیش رفت ہو رہی ہے، اس کے پاکستان کے لیے کیا اثرات اور نتائج ہو سکتے ہیں، اس پر بھی پارلیمان کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں جن دفاعی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جن کی ہم سب مکمل حمایت کرتے ہیں، ان معاہدوں کی نوعیت، ان کے مقاصد اور ان کے ممکنہ اثرات کیا ہیں، اس حوالے سے بھی اس پارلیمان کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا جانا چاہیے۔ اس پارلیمان کے ہر رکن کا یہ بنیادی حق ہے کہ اس کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان کو اس وقت کن داخلی و خارجی مسائل کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالخصوص جو دہشت گردی کی صورت میں اندرونی سطح پر ہمیں سنگین مسائل کا سامنا ہے، اس حوالے سے بھی پارلیمان کو تفصیلی بریفنگ دی جائے، بتایا جائے کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں کن ممکنہ خطرات کا اندازہ ہے اور ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت کیا حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے اور اس قومی کاوش میں ہم سب بحیثیت پارلیمان اپنا کردار کس طرح ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے  کہا کہ یہ پارلیمان تمام سیاسی جماعتوں کا مشترکہ اثاثہ ہے اور اس کی مضبوطی ہی جمہوریت کی مضبوطی ہے، لہٰذا ہمیں اپنے سیاسی اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے آئین کی بالادستی، جمہوری تسلسل اور قومی یکجہتی کے لیے ایک صفحے پر آنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عوام اس پارلیمان کی جانب دیکھ رہی ہے، اور یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم ان کی توقعات پر پورا اترتے ہوئے ایسے فیصلے کریں جو نہ صرف موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہوں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مستحکم، محفوظ اور خوشحال پاکستان کی بنیاد بھی فراہم کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں