3

گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل رواں سال 2026 میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ڈیجیٹل لٹریسی کے فروغ کی سب سے نمایاں آواز بن کر ابھرے ہیں

کوئٹہ : گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے رواں سال 2026 کے دوران پاکستان، بالخصوص بلوچستان میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس، ڈیجیٹل لٹریسی اور نوجوانوں کی پریکٹیکل آئی ٹی تربیت کے فروغ کو اپنے فکری اور عملی ایجنڈے کا اہم حصہ بنائے رکھا۔ ذرائع ابلاغ کے مختلف فورمز پر بیانات، علمی و تعلیمی تقریبات میں فکرانگیز تقاریر، قومی و بین الاقوامی شخصیات سے ملاقاتوں اور سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کے ساتھ روابط میں انہوں نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس، روبوٹکس، ای کامرس، آن لائن کاروبار اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم و تربیت پر مسلسل زور دیا۔ انکی اس مسلسل توجہ و انتھک محنت کے نتیجے میں یہ جدید علوم اور ٹیکنالوجیز بلوچستان کے تعلیمی و ترقیاتی مباحث کا اہم موضوع بن کر ابھرے۔ گورنر مندوخیل اس حقیقت کا ادراک رکھتے ہیں کہ بلوچستان کے ہزاروں نوجوان بے روزگاری جیسے سنگین معاشی مسئلے سے دوچار ہیں۔ ان کے نزدیک اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے محض روایتی سرکاری ملازمتوں یا محدود روزگار کے مواقع پر انحصار کافی نہیں، بلکہ نوجوانوں کو بدلتی ہوئی عالمی معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔ ان کا تصور یہ ہے کہ اگر نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل لٹریسی، جدید میڈیکل اینڈ پروفیشنل کورسز، ای کامرس اور آن لائن بزنس کی عملی تربیت فراہم کی جائے تو وہ نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکتے ہیں۔ اسطرح نوجوان ملازمت کے متلاشی ہونے کے ساتھ ساتھ خود دوسروں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے والے بھی بن سکتے ہیں۔ اسی وژن کے تحت انہوں نے تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیز پر زور دیا کہ وہ روایتی نصابی اور تعلیمی ڈھانچے سے آگے بڑھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تعلیمی پروگرام متعارف کرائیں۔ انکے نزدیک اعلیٰ تعلیم کا مقصد صرف ڈگریوں اور اسناد کا حصول نہیں بلکہ علم کو عملی مہارت، تحقیق کو پیداواری صلاحیت اور تعلیم کو معاشی خودمختاری میں تبدیل کرنا ہے۔ یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کو چاہیے کہ وہ کتابی علم اور عملی زندگی کے درمیان موجود خلیج کو کم کریں اور ایسے کورسز متعارف کرائیں جو طلباءو طالبات کو روزگار کیلئے تیار کرنے کے ساتھ نئے معاشی امکانات سے بھی روشناس کرائیں۔
گورنر مندوخیل کی اس ہمہ جہت سوچ و اپروچ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ڈیجیٹل اکانومی جغرافیائی حدود کی پابند نہیں۔ بلوچستان کا نوجوان اپنے ہی شہر یا گاؤں میں رہتے ہوئے آن لائن کاروبار، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کے ذریعے قومی و عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ یوں جدید ٹیکنالوجی محض سہولت یا تعلیمی مضمون نہیں بلکہ بیروزگاری میں کمی، معاشی شمولیت اور نوجوانوں کیلئے نئے امکانات پیدا کرنے کا ایک معتبر وسیلہ بن سکتی ہے۔ سال 2026 میں گورنر بلوچستان نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے فورم پر پاکستان اور بلوچستان کے نوجوانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے انکی صلاحیتوں، درپیش چیلنجز اور کامیاب مستقبل کے امکانات کو انٹرنیشنل سطح پر اجاگر کیا۔ یہ شرکت اس وسیع تر مسقبل قریب کے تصور کا حصہ تھی کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو گلوبل ڈسکورس، جدید علوم اور بین الاقوامی مواقع سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بلاشبہ بلوچستان جیسے وسیع جغرافیے اور بڑی نوجوان آبادی کے حامل صوبے میں ڈیجیٹل مہارتوں کا فروغ محض تعلیمی اصلاحات کا معاملہ نہیں بلکہ معاشی ترقی، روزگار کی تخلیق اور سماجی تبدیلی سے جڑا ہوا ایک اہم تقاضا ہے۔ اس مقصد کیلئے سرکاری یونیورسٹیز، پرائیویٹ تعلیمی اداروں، ٹیکنالوجی کے شعبے اور متعلقہ سرکاری اداروں کے درمیان موثر اشتراک بھی ناگزیر ہے۔ گورنر بلوچستان کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ نوجوانوں کو محض ڈگریاں نہیں بلکہ مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ علم، جدید ٹیکنالوجی اور عملی مہارتیں فراہم کی جائیں کیونکہ آنے والے دور میں کامیابی کا معیار صرف یہ نہیں ہوگا کہ کتنے نوجوانوں کو ملازمت ملی بلکہ یہ بھی ہوگا کہ کتنے نوجوان اپنی مہارت، تخلیقی صلاحیت اور ڈیجیٹل استعداد کے ذریعے خود روزگار پیدا کرنے اور معیشت میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہوئے۔ یہی سوچ بلوچستان کو روایتی روزگار کی محدود دنیا سے نکال کر ڈیجیٹل معیشت کے وسیع امکانات سے جوڑنے کی بنیاد بن سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں