
(ویب ڈیسک)عالمی منڈی میں منگل کے روز خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، کیونکہ سرمایہ کار ایک جانب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی سفارتی کوششوں اور دوسری جانب دونوں ممالک کے درمیان جاری حملوں اور یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی بحری ناکہ بندی کی دھمکیوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 35 سینٹ کمی کے بعد 88.87 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل ستمبر کی ترسیل کے لیے 82.47 ڈالر فی بیرل پر مستحکم رہا، دونوں معاہدے گزشتہ روز ایک ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح سے نیچے ٹریڈ کرتے رہے۔
ایران سے وابستہ یمن کے حوثیوں نے پیر کے روز اعلان کیا کہ وہ سعودی عرب پر بحری ناکہ بندی نافذ کریں گے، جس سے خطے میں کشیدگی بڑھنے اور عالمی توانائی کی فراہمی و تجارتی راستوں کو خطرات لاحق ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
دوسری جانب ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ تہران کو ثالث ممالک کی جانب سے 10 روزہ جنگ بندی کی تجویز موصول ہوئی ہے، اس تجویز کا مقصد 17 جون کو ہونے والے عبوری معاہدے کو بچانا اور 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے مستقل خاتمے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
سفارتی کوششیں ایسے وقت میں جاری ہیں جب امریکا نے ایران کے مختلف شہروں پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کیا ہے، جبکہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بھی خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بھی ایران پر مزید حملوں کی تصدیق کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی بیشتر اشیا پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کی گنجائش موجود ہے، تاہم جنگ بندی اور مذاکرات کی خبروں نے فی الحال قیمتوں میں تیزی کو محدود کر رکھا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ قیمتوں کا رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ سفارتی مذاکرات سے کوئی عملی پیش رفت ہوتی ہے یا نہیں۔
ادھر ابتدائی سروے کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل اور پیٹرول کے ذخائر میں کمی جبکہ ڈیزل اور دیگر ڈسٹلیٹ ایندھن کے ذخائر میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔






