
(24نیوز) سی سی او آر آر کا 12واں اجلاس، وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ ہارون اختر خان، معاونِ خصوصی وزیرِاعظم برائے صنعت و پیداوار اور جام کمال خان، وفاقی وزیرِ تجارت بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
کُل 558 اصلاحات میں سے صرف 76 پر عملدرآمد ہوا، 243 اصلاحات التوا کا شکار ہیں۔
وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ نے کہا کہ ریگولیٹری اصلاحات پر تاخیر ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔
قیصر احمد شیخ نے کہا کہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ضابطہ کاری میں نرمی ناگزیر ہے، اصلاحات کا عمل تیز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کاہ کہ کاروباری ماحول کو آسان بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
قیصر احمد شیخ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ سرمایہ کاروں کو درپیش رکاوٹیں فوری دور کی جائیں۔ معاونِ خصوصی وزیرِاعظم ہارون اختر خان: 30 دن میں عملدرآمد نہ ہونے پر ادارے وزیرِ اعظم کو جوابدہ ہوں گے۔
جام کمال خان نے ہدایت کی کہ وزراء کے لیے ریجیمیٹر کا ایگزیکٹو ڈیش بورڈ تیار کیا جائے۔ سی ڈی اے کی 19 میں سے 18 اصلاحات تاخیر کا شکار ہونے پر کمیٹی کے ارکان نے سختی کے ساتھ اعتراض کئے۔ کمیٹی نے سی ڈی اے کو فوکل پرسن نامزد کر کے فوری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
ایس ای سی پی کی 139 اصلاحات التوا کا شکار ہونے کی وجہ سے کمیٹی نے سی سی ایل سی میں پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت بھی کی۔
ہارون اختر خان نے کمیٹی کو بتایا کہ اعظم نذیر تار نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ، قانونی امور جلد نمٹائے جائیں گے۔
ٹوبیکو برآمدات سے متعلق بین الاقوامی پروٹوکول پر عملدرآمد کا معاملہ زیر غور آیا۔
اسٹیٹ بینک کی اصلاحات، کاروباری اکاؤنٹس اور فارن ایکسچینج نظام میں بہتری پر زور دیا گیا۔
اجلاس کے اختتام پر قیصر احمد شیخ نے کاروباری آسانیوں کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا.
یہ بھی پڑھیئے: بلاول بھٹو نے کشمیر کو سینیٹ میں نمائندگی دینے، خواجہ آصف کی برطرفی کا مطالبہ کر دیا






