
(روزینہ علی)این ڈی ایم اے نے 15 اگست تک ممکنہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے حوالے سے پیشگی الرٹ جاری کردیا۔
این ڈی ایم اےکے مطابق آج سے 15 اگست کے دوران دریاؤں کے بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث اچانک سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے، جبکہ بالائی علاقوں میں تیز ہواؤں، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلادھار بارش متوقع ہے۔خیبر پختونخوا میں چترال، سوات، شانگلہ، بٹگرام، اپر و لوئر دیر میں سیلابی صورتحال متوقع ہے،کوہستان، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور،باجوڑ، بونیر، کرم، اورکزئی، مردان، صوابی اور نوشہرہ میں بھی سیلابی صورتحال متوقع ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق آزاد کشمیر میں حویلی، پونچھ اور سدھنوتی میں اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے،گلگت بلتستان میں خرمنگ، گھانچے، گلگت، نگر، دیامر، ہنزہ، غذر، گوپس یاسین اور استور میں بھی اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب اور شمال مشرقی بلوچستان میں بھی 13 تا 15 اگست بارشوں کے باعث پہاڑی علاقوں اور برساتی نالوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے،بلوچستان میں موسیٰ خیل، بارکھان، خضدار اور ڈیرہ بگٹی جبکہ پنجاب میں مری، ڈی جی خان اور راجن پور کے پہاڑی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے،دریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ، چشمہ، گڈو اور سکھر جبکہ دریائے راوی میں بلوکی اور دریائے چناب میں مرالہ اور خانکی کے مقامات پر کم درجے کا بہاؤ متوقع ہے،سیالکوٹ، لاہور، گجرات، گوجرانوالہ، بھکر، راولپنڈی، اسلام آباد، قصور، اوکاڑہ، مردان اور صوابی میں بھی سیلابی صورتحال متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:آج پھرگرج چمک کیساتھ بادل برسیں گے:محکمہ موسمیات کی بڑی پیشگوئی
14 تا 15 اگست کے دوران گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے پیش نظر بھی الرٹ جاری کرتے ہوئے ہنزہ، نگر، گلگت، اسکردو روڈاور شگر کے علاقے لینڈ سلائیڈنگ کے حوالے سے حساس قراردیئے گئے ہیں،مسگر، سوست، پسو، حسین آباد، گلمت، غلکن، ششکٹ ،شمشال، حسن آباد، مناپن، ہوپر، ہسپر،نلتر، بگروٹ، ہراموش، ارندو،باشا، اسکولی، ہُوشے اور مچولو کے علاقوں میں بھی لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ کے باعث قراقرم ہائی وے اور گلگت، ہنزہ، سوست و گلگت، اسکردو کوریڈورز پر ٹریفک متاثر ہونے کا امکان ہے،مسافروں اور مقامی آبادی کو لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے دوچار پہاڑی سڑکوں پر غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے.
این ڈی ایم اے کے مطابق متعلقہ ادارے حساس پہاڑی علاقوں کی مسلسل نگرانی اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹنے کے لیے ریسکیو ٹیمیں تیار رکھیں، عوام سیلابی نالوں، زیر آب سڑکوں، پلوں اور تیز آبی بہاؤ کو عبور کرنے سے گریز کریں،جاری کردہ ٹریفک ہدایات پر عمل کریں،سیلابی خطرے سے دوچار آبادیوں کے رہائشی، سیاح اور مسافر ندی نالوں اوردریا کے کناروں سے دور رہیں،مون سون کے دوران پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے ریلوں اور اچانک آنے والے سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،سفر سے پہلے موسم کی تازہ ترین پیش گوئی اور سڑکوں کی صورتحال ضرور معلوم کریں،اگر شدید بارش یا کسی بھی ممکنہ خطرے کی وارننگ جاری ہو تو غیر ضروری سفر سے گریز کریں،مون سون کے دوران برساتی ندی نالوں کے بہاؤ میں اچانک شدید اضافہ بھی ہو سکتا ہے،لہٰذا ایسے علاقوں میں سیاحتی سرگرمیوں کے دوران محتاط رہیں،تیز بہاؤ والے پانی کے ریلوں سے دور رہیں،احتیاطی تدابیر اختیار کریں،متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں،انتظامیہ کی جانب سے بند کی گئی سڑکوں پر سفر سے مکمل گریز کریں۔






