
(24 نیوز)سپریم کورٹ نے سابقہ اہلیہ کے قاتل مجرم وسیم عباس کی سزائے موت کیخلاف اپیل خارج کر دی ۔
جسٹس محمد ہاشم کاکڑ نے چار صفحات پر مشتمل فیصلہ میں ریمارکس دیئے کہ عورت کا خلع لینا ایک آئینی حق ہے،خلع لینے پر پر تشدد آئین پر حملہ ہے،خلع مانگنے والی عورت پر تشدد کرنے والوں کیساتھ قانون پوری سختی سے نمٹے گا۔
جج نے ریمارکس دیئے کہ آئین کا آرٹیکل 9، 14 اور 25 عورت کو تحفظ اور مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے،قانونی حق مانگنے پر عورت کا قتل کرنا قانون کیساتھ کھلی بغاوت اور سفاکی ہے،گھریلو حدود کے اندر ہونے والے جرم میں رشتہ داروں کی گواہی کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ موقع سے ملنے والے خول اور پستول کا فرانزک جرم کا ناقابل تردید ثبوت ہے، ماتحت عدالتوں کے فیصلے میں کوئی نقص نہیں سزائے موت کا فیصلہ برقرار رہے گا، 11 اکتوبر 2020 کو وسیم عباس نے سابقہ بیوی شہناز بی بی کو فائرنگ کر کے قتل کردیا تھا ۔
خاتون نے فیملی کورٹ سے خلع کی قانونی ڈگری حاصل کی تھی، خلع کی ڈگری ملنے کے محض 48 گھنٹے بعد مسلح مجرم گھر میں داخل ہوا، طلاق کی رنجش پر مجرم نے پیٹ،ہاتھ اور کمر پر 6 گولیاں مار کر خاتون کی جان لی۔
ٹرائل کورٹ نے مجرم کو سزائے موت اور 10 سال قید کی سزا سنائی تھی، لاہور ہائیکورٹ نے بھی سزائے موت برقرار رکھی تھی۔
یہ بھی پڑھیں :ایران نے قطر میں قید تین پائلٹوں کی رہائی کا مطالبہ کر دیا






