1

گھر میں گھس کر دو خواتین کو قتل کرنے کا واقعہ؛ بلوچ خواتین کی  فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کی شدید مذمت

(24نیوز)   بلوچستان کی خواتین پارلیمنٹیرینز  نے نوشکی میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے ایک  گھر میں گھس کر ماں اور بیٹی کو شہید کرنے کے ظالمانہ واقعہ  کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ  واقعہ انتہائی افسوسناک  اور بلوچ  روایات کے منافی ہے۔

کوئٹہ  میں پریس کانفرنس  کرتے ہوئے بلوچستان کی  کھیلوں کی وزارت کی مشیر   محترمہ مینا مجیدنے کہا کہ نوشکی میں فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے حنیفہ بی بی اور ان کی صاحبزادی حفصہ بی بی  کوشہید کیا، ان ماں بیٹی کا کیا قصور تھا ۔  اب عام بلوچ لوگ اورخواتین فتنہ الہندوستان کے دہشت گروں کے ظلم کا نشانہ بن رہے ہیں۔

محترمہ مینابلوچ نےکہا کہ حکومت اور سکیورٹی فورسزکی فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور اس واقعے میں ملوث دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائےگا۔

بلوچستان اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر محترمہ غزالہ  نے اس پریس کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا  کہ نوشکی کے افسوسناک واقعہ  پر  بلوچستان کی عام خواتین اور پارلیمنٹیرین خواتین خاموش نہیں بیٹھیں گی۔ 

انہوں نے کہا کہ  خواتین کو ہر جگہ اور ہرحال میں تحفظ دیاجانا چاہیے۔

صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ درانی نے کہا کہ بلوچ خواتین کو قتل کرکے بلوچستان کے بارے میں کیا تاثر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیئے:  ٹرکوں کی  ملک گیر ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں