
(ویب ڈیسک)سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمے میں دیت کی رقم کے تعین سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔عدالت نے سوال اٹھایا کہ دیت وقوعے، گرفتاری یا سزا سنائے جانے کے وقت مقرر ہوگی؟۔کیس میں تمام فریقین کو تحریری معروضات جمع کرانے کی ہدایت کردی گئی۔
سپریم کورٹ میں قتل کے مقدمے میں دیت کی رقم کے تعین سے متعلق اہم کیس کی سماعت ہوئی۔عدالت نے مجرم ندیم خان کی جانب سے دائر اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
وکیل نے مؤقف اپنایا کہ مجرم اپنی سزا پوری کرچکا ہے اور اب صرف دیت کی رقم ادا نہ کرنے کی سزا کاٹ رہا ہے۔پراسیکیوٹر خیبرپختونخوا ارشد حسین نے بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے۔دیت کی رقم کے تعین سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ موجود ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ کیس میں بنیادی طور پر تین سوالات ہیں۔۔کیا دیت کی رقم وقوعے، گرفتاری یا سزا کے وقت کے حساب سے مقرر ہوگی؟۔پراسیکیوٹر نے بتایا کہ آج کل دیت کی رقم ایک کروڑ ستانوے لاکھ روپے ہے۔ملزم کی عمر کا تعین بھی گرفتاری کے وقت سے کیا جاتا ہے۔
جسٹس صلاح الدین پنہور نے ریمارکس دیے کہ قتل کرنا تھوڑا مہنگا ہو تو شاید لوگ رک جائیں۔انہوں نے کہا سعودی عرب میں آج بھی دیت پر سو اونٹ دیے جاتے ہیں۔عدالت نے تمام فریقین کو دیت کی رقم کے تعین سے متعلق تحریری معروضات جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں:جیل ملاقات کیلئے مینوئل ہے، ایک کو اجازت دی تو سب کو دینا ہوگی، اعظم نذیر تارڑ






