7

جماعت اسلامی کا  پیٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس کیخلاف لاہور اور کراچی دھرنا جاری

(شاہ رُخ شاہ)جماعت اسلامی کا  پیٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس کے خلاف لاہور اور کراچی میں گورنر ہائوس کے باہر دھرنا جاری،امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن اور امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی اپیل پر ہزاروں کی تعداد میں خواتین ومرد کارکنوں نے دھرنے میں شرکت کی۔

امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  ملک میں مہنگائی و بے روزگاری میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے اور حکمران خود عیاشیاں کررہے ہیں، 3 دن قبل پاکستان کا 79واں یوم آزادی منایا گیا ہے، پاکستان کی آزادی کا مقصد لاالہ الااللہ تھا۔ 

منعم ظفر خان  نے کہا کہ 79 سال گزر گئے ، وطن عزیز میں وڈیروں ، جاگیردار، خان خوانین اور سرداروں کا راج ہے، 79 سال میں 35 سال براہ راست فوجی حکومت رہی ہے،بقیہ سال انہی کے گملوں میں پرورش پانے والے ملک پر قابض ہیں،60 فیصد سے زائد نوجوانوں کی تعداد اور ایٹمی پاور ہونے کے باجودسارا ملبہ عوام پر گرایا جارہا ہے۔ 

امیر جماعت اسلامی  کراچی کا کہنا تھا کہ فارم 47 کی پیداوار کو عوام پر مسلط کیا گیا ہے،مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم ایوان کے مزے لوٹ رہے ہیں لیکن عوام کو حقوق دینے کے لیے تیار نہیں ہے، عوام کے بنیادی مسائل پر صرف اور صرف جماعت اسلامی ہی آواز بلند کررہی ہے،شہر کراچی سے اٹھنے والی نظام کی تبدیلی اور عوام کے حقوق کی آواز بلند ہوتی جارہی ہے۔ 

منعم ظفر خان  نے کہا کہ گزشتہ مالیاتی سال میں 1566ارب روپے پیٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس عوام سے وصول کیے گئے،ٹیکس دینے والے میڈیا ورکرز ، مزدور ، موٹر سائیکل سوار ،فوڈ پانڈا اور متوسط طبقے سے وابستہ عوام ہیں،  شرم اور ڈوب مرنے کا مقام ہے حکمرانوں کے لیے جو فی لیٹر پیٹرول میں 80 روپے سے زائد لیوی ٹیکس وصول کررہے ہیں۔

 وزیر اعلیٰ پنجاب مریم بی بی کے لیے 11 ارب کا جہاز ، سینٹ چیئرمین کے لیے 9 کروڑ روپے کی گاڑی خریدی گئی،ملک میں یہی وہ مافیا جسے 280 ارب روپے کی مفت بجلی دی گئی،حکمران اپنی شاہ خرچیاں بند کرکے عوام کا بوجھ  کم کریں، جماعت اسلامی کی جدوجہد جاری ہے،ہمارا مطالبہ بالکل واضح ہے پیٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس ختم کیا جائے ، آئی پی پیز سے معاہدے منسوخ کیے جائیں گے۔ 

جلسے سے خطاب کرتے ہوئےامیر جماعت اسلامی  کراچی کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی حکمرانوں کا تعاقب کرے گی اور کسی صورت بھاگنے نہیں  دے گی،کے الیکٹرک کراچی کے جیبوں پر ڈاکا ڈال رہا ہے اسی طرح بقیہ صوبوں میں آئی پی پیز کے نام پر ڈاکا ڈالا جارہا ہے، گزشتہ کیپیسٹی چارجز کے نام پر اربوں روپے دیے جارہے ہیں جو بجلی بنتی ہی نہیں ہے،حکمرانوں کا وتیرہ یہ ہے کہ عوام کو جہاں سے لوٹا جائے لوٹو اور اپنے بنک بیلنس مضبوط کرو۔

انھوں نے کہا کہ حکمران بتائیں کہ 43 ہزار روپے میں کیسے گھر چل سکتا ہے،حکمرانوں نے عوام سے جینے کا حق چھین لیا ہے،جماعت اسلامی برسرپیکار ہے اور جدوجہد کررہی ہے،آج مائیں ،بہنیں اور بچے گھروں سے نکل کر سڑک پر بیٹھنے پر مجبور ہو جائیں تو مہنگائی و بے روزگاری کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، فیکٹری میں کام کرنے والے خواتیں 10 گھنٹے کی ڈیوٹی کرتی ہے ان کے جائز حقوق بھی نہیں دیے جاتے۔

منعم ظفر خان  نے کہا کہ سندھ میں 78 لاکھ بچے تعلیمی اداروں کا منھ نہیں دیکھ پاتے،  اقتدار پر قابض حکمران عوام کو ان کا حق نہیں دینا چاہتے،عوام کے پاس ایک ہی راستہ ہے منظم ہوکر حق کے لیے آواز بلند کی جائے، ظلم و جبر کے نظام کے خلاف اٹھنا ہوگا اور جدوجہد کو مزید تیز کرنا ہوگا، اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتے نظر آتی ہیں، خواتین کے جذبوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،گورنر ہاؤس کے باہر دھرنا ہر صورت میں جاری رہے گا اور جدوجہد جاری رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستان میں بھی سونا اور چاندی مہنگا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں