4

پیٹرولیم مصنوعات پھر مہنگی! نئی قیمتیں سامنے آگئیں

(ویب ڈیسک)مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں پیش رفت نہ ہونے اور ایران کی جانب سے فوجی حکمتِ عملی مزید جارحانہ بنانے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔

رائٹرز کے مطابق منگل کو برینٹ خام تیل کے سودے 27 سینٹ اضافے کے بعد 91.50 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 42 سینٹ بڑھ کر 85.30 ڈالر فی بیرل ہوگیا۔

ایرانی حکام کے مطابق امریکہ کے ساتھ مستقل جنگ بندی اور امن معاہدے کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، جس کے باعث ایران نے ’’مکمل جارحانہ‘‘ فوجی پوزیشن اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہے،دوسری جانب واشنگٹن نے عارضی جنگ بندی میں توسیع کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔

صورتحال کا سب سے بڑا اثر آبنائے ہرمز پر پڑ رہا ہے، جہاں تیل بردار اور دیگر تجارتی جہازوں کی آمدورفت انتہائی محدود ہوگئی ہے،شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ ہفتے کے اختتام پر صرف پانچ کموڈیٹی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرےجبکہ اتوار کو کسی جہاز کی آمدورفت ریکارڈ نہیں ہوئی۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کے ساتھ باب المندب میں بھی کشیدگی عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے بڑا خطرہ بن رہی ہے، یمن کے حوثی گروپ نے بھی بحیرہ احمر میں سعودی جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں 100 طیارے تباہ ہوئے:ایران

ایران دوسری جانب آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق عمان کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے اور تہران کا کہنا ہے کہ معاہدہ قریب ہے تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عمان کے خلاف دھمکی نے سفارتی کوششوں پر مزید سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔

دریں اثنا، میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ پسِ پردہ رابطے بھی شروع کیے ہیں جسے سفارتی پیش رفت کی ایک محدود امید قرار دیا جارہا ہے۔

عالمی منڈی میں سرمایہ کار اب امریکی خام تیل کے ذخائر کے اعداد و شمار پر بھی نظریں جمائے ہوئے ہیں جبکہ ابتدائی رائٹرز سروے میں گزشتہ ہفتے امریکہ میں خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر میں کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں