4

آبنائے ہرمز کشیدگی: تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ

(ویب ڈیسک)عالمی منڈی میں بدھ کو  تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ دیکھا گیا، جس کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کے مستقبل سے متعلق غیر یقینی صورتحال ہے، سرمایہ کار ایران اور امریکا کے متضاد بیانات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا اہم آبی گزرگاہ سے جہازوں کی آمدورفت جاری ہے یا نہیں۔

برینٹ خام تیل کے مستقبل کے معاہدے 26 سینٹ یا 0.29 فیصد اضافے کے ساتھ 91.80 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 37 سینٹ اضافے کے بعد 85.60 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔

دونوں معاہدوں نے منگل کو 24 جولائی کے بعد کی بلند ترین سطح پر کاروبار بند کیا تھا، امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کی امیدیں کم ہونے کے باعث تیل کی قیمتوں کو سہارا ملا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ ایران کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور آبنائے ہرمز کھلی ہے، تاہم ایران نے اس کے برعکس دعویٰ کیا کہ اہم آبی گزرگاہ بدستور جہاز رانی کے لیے بند ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان عارضی جنگ بندی کا معاہدہ پیر کو ختم ہو گیا تھا۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ سفارتی تعطل کے باعث ایران مزید اقدامات کی جانب بڑھ رہا ہے، تاہم منگل کو فریقین کے درمیان کسی نئے حملے کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایران عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ جنگ کا مکمل خاتمہ چاہتا ہے:عباس عراقچی

آبنائے ہرمز سے بچنے کے لیے عراق کی کابینہ نے بھی خام تیل کی برآمد کے لیے نئے طریقہ کار کی منظوری دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت عراقی خام تیل خصوصی بین الاقوامی اور مقامی کمپنیوں کے ذریعے متعدد برآمدی راستوں سے بھیجا جائے گا۔ حکومتی بیان کے مطابق نئے معاہدے یکم ستمبر سے تین ماہ کے لیے ہوں گے۔

دوسری جانب چین کی دو بڑی شپنگ کمپنیوں نے بھی آبنائے ہرمز اور باب المندب کے راستے تیل بردار جہاز بھیجنا روک دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کمپنیاں خلیج سے باہر تیل کے کارگو حاصل کر رہی ہیں تاکہ خطے کے اہم بحری راستوں میں موجود خطرات سے بچا جا سکے۔

امریکا میں گزشتہ ہفتے خام تیل اور ڈسٹلیٹ کے ذخائر میں کمی جبکہ پٹرول کے ذخائر میں اضافہ ہوا۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کے سرکاری اعداد و شمار بدھ کو جاری کیے جائیں گے۔ رائٹرز کے سروے کے مطابق ماہرین کو توقع ہے کہ 14 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکی خام تیل کے ذخائر تقریباً 6 لاکھ بیرل کم ہوئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں